قطر کے الثانی گروپ نے پاکستان میں اپنی سرمایہ کاری ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔گروپ نے حکومت کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا ہے کہ وہ پورٹ قاسم کول پاور پلانٹ میں اپنے 49 فیصد حصص فروخت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ منصوبہ دو 660 میگاواٹ کے سپر کرٹیکل کول یونٹس پر مشتمل ہے، جو چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت تعمیر ہوا تھا، اور اس پر دو ارب ڈالر سے زائد لاگت آئی۔
پاکستان کے ایک معروف انگریزی اخبار بزنس ریکارڈر کے مطابق
اس منصوبے میں قطر کی المرقب کیپیٹل اور چین کی پاور کنسٹرکشن کارپوریشن نے مشترکہ سرمایہ کاری کی تھی، جبکہ الثانی گروپ کا حصہ ایک ارب ڈالر سے زیادہ تھا۔
ذرائع کے مطابق، واجبات کی مسلسل عدم ادائیگی اس فیصلے کی بنیادی وجہ ہے۔ گزشتہ سال قطر کے سابق وزیراعظم شیخ حمد بن جاسم بن جابر الثانی نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر 450 ملین ڈالر کی ادائیگی کا مطالبہ کیا تھا، لیکن حکومت کی جانب سے کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔
دوسری جانب روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے الجومہ گروپ اور کویت کے ڈینہم انویسٹمنٹس لمیٹڈ نے حکومت پاکستان کو دو ارب ڈالر ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا ہے۔ یہ دونوں کمپنیاں کے الیکٹرک میں سرمایہ کار ہیں اور انہوں نے پاکستان پر سرمایہ کاری کے حقوق کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
بڑی ملٹی نیشنل کمپنی نے پاکستان میں کاروبار بند کرنے کا اعلان کر دیا – urdureport.com
یہ نوٹس او آئی سی کے رکن ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کے تحفظ کے معاہدے کے تحت دیا گیا ہے، اور اگر معاملہ حل نہ ہوا تو یہ تنازع بین الاقوامی ثالثی میں جا سکتا ہے، جس سے پاکستان کی معاشی ساکھ کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

