پاکستان میں ایک انگریزی روزنامے میں روس کے حوالے سے شائع ہو نے والے آرٹیکلز بارئے پاکستان میں روس کے سفارتخانے نے ایک مذمتی بیان جاری کیا ہے اور ان آرٹیکلز کو روس مخالف قرار دیا ہے۔
روسی سفارتخانے کا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہنا تھا کہ
ہم نے انگریزی زبان کے پاکستانی اخبار فرنٹیئر پوسٹ میں شائع ہونے والے روس مخالف مضامین کے سلسلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کا نوٹس لیا گیا ہے۔ سب سے پہلے ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اس اشاعت کو بمشکل ہی "پاکستانی” کہا جا سکتا ہے، کیونکہ اس کی بین الاقوامی خبروں کی سروس کا مرکز واشنگٹن میں قائم ہے۔ یہی امریکی رنگ میں رنگی ہوئی ٹیم عالمی خبروں کے انتخاب کی ذمہ دار ہے اور ہمیشہ اُن مصنفین کو ترجیح دیتی ہے جو روس مخالف نظریات رکھتے ہیں اور روسی خارجہ پالیسی اور صدر ولادیمیر پوتن کے ناقد ہیں۔
حالیہ دنوں میں اخبار کے بین الاقوامی حصے میں کوئی ایک بھی مضمون ایسا شائع نہیں ہوا جو روس یا اس کی قیادت کو مثبت یا حتیٰ کہ غیرجانبدار انداز میں پیش کرے۔ ہم اظہارِ رائے کی آزادی اور اداریہ کے اس حق کا احترام کرتے ہیں کہ وہ مختلف آراء رکھنے والے مصنفین کے مضامین شائع کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔تاہم، مغربی پروپیگنڈے سے لبریز اور متبادل مؤقف سے محروم یہ مسلسل روس مخالف مہم اس خیال کو جنم دیتی ہے کہ شاید اداریہ کی پالیسی آزادیِ اظہار پر نہیں بلکہ روس مخالف قوتوں کے سیاسی ایجنڈے پر مبنی ہے۔
یہ بات بھی باعثِ حیرت ہے کہ وہی اخبار، جس نے افغانستان سے متعلق خبروں کے لیے ایک مکمل حصہ مختص کر رکھا ہے، 7 اکتوبر 2025ء کو منعقدہ افغانستان کے بارے میں ماسکو فارمیٹ مشاورت جیسے اہم اجلاس کو مکمل طور پر نظرانداز کر گیا، حالانکہ اسے پاکستانی ذرائع ابلاغ میں بھرپور کوریج ملی۔ یہ طرزِ عمل اخبار کے مغرب زدہ ادارتی عملے کے روس مخالف رجحان کو مزید نمایاں کرتا ہے اور اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ علاقائی امور پر پاکستان کے مؤقف کو اُجاگر کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ جہاں تک اخبار میں شائع ہونے والے روس مخالف دلائل کا تعلق ہے، اداریہ کسی تخلیقی سوچ کا مظاہرہ نہیں کر رہا بلکہ مغربی پروپیگنڈے کے گھسے پٹے بیانیے جیسے "کمزور معیشت”، "پابندیوں کے سامنے کمزوری” اور "مغربی ممالک کی فوجی برتری” کو دہرا رہا ہے۔
واشنگٹن میں بیٹھے فرنٹیئر پوسٹ کے صحافی حقائق کو مسخ کر کے روس کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کر رہے ہیں جو گویا معاشی تباہی کے دہانے پر ہے، اور یوں وہ نئی مغربی پابندیوں کے لیے جواز فراہم کر رہے ہیں، جو بالآخر انہی ممالک کی معیشتوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں جو یہ پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔ باوجود اس کے کہ روس کو تاریخ میں کسی بھی ملک کے مقابلے میں غیر معمولی بیرونی دباؤ کا سامنا رہا ہے، روسی معیشت نے پائیدار ترقی کا مظاہرہ کیا ہے۔
سال 2024ء میں روس کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 4.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جب کہ صنعتی شعبوں میں ترقی کی شرح 8.5 فیصد تک پہنچ گئی۔ ملک میں بے روزگاری کی شرح صرف 2.5 فیصد ہے، اور سال 2025ء کے لیے متوقع سالانہ افراطِ زر 6.5 تا 7 فیصد کے درمیان ہے۔
یہ کسی "زوال کے دہانے پر کھڑی ” معیشت کے اعداد و شمار نہیں ہیں۔ مزید یہ کہ روس نے حال ہی میں لامحدود فاصلے تک مار کرنے والے جدید کروز میزائل "بریویستنک” اور بغیر عملے کی کثیرالمقاصد آبدوز "پوزیڈن” کے کامیاب تجربات مکمل کیے ہیں، جو اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں کہ فوجی میدان میں مغربی برتری کے دعوے بے بنیاد ہیں۔ ہم پاکستانی عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ معلومات مختلف اور معتبر ذرائع سے حاصل کریں، اور اُن اشاعتی اداروں پر انحصار نہ کریں جو غیر ملکی سرپرستوں کے مشکوک عزائم کی تکمیل میں مصروف ہیں۔
یہ بھی پرھیں

