پاکستان میں انفلوئنزا H3N2 پھیلنے لگا، بچاؤ اور کنٹرول کے لیےقومی برائے صحت (این آئی ایچ) اسلام آبادنے ایک ایڈوائزری جاری کی ہے تاکہ شہری حفاظتی تدابیر اپنا کر محفوظ رہیں۔
یہ ایک سپر فلو وائرس ہے۔نزلہ زکام کو ہرگز معمولی نہ سمجھیں۔ ماہرین کا کہنا ہےکہ موجودہ موسم میں پھیلنے والا سپر فلو عام فلو نہیں بلکہ انفلوئنزا اے (H3N2) وائرس سے جڑا ہوا ہے، جو عام فلو کے مقابلے میں زیادہ خطرناک اور تیزی سے منتقل ہونے والا وائرس ہے۔
ایڈ وائزری میں کہا گیا ہے کہ / 2025–26 کے سیزن میں انفلوئنزا A(H3N2) سب کلاڈ K عالمی سطح پر سامنے آیا ہے، اگست 2025ء سے مختلف عالمی خطوں میں H3N2 کیسز میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے،
جنوبی ایشیا میں مئی تا نومبر 2025ء انفلوئنزا کیسز میں اضافہ ہوا ہے اور 66 فیصد کیسز H3N2 کے رپورٹ ہوئے،رپورٹ میں کہا گیا کہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں بھی H3N2 کے نمایاں کیسز رپورٹ ہوئے ، پاکستان میں پاکستان میں آئی ایل آئی اور SARI کیسز میں اضافہ ہوا، 3 لاکھ 40 ہزار 856 مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے۔
پاکستان میں ٹیسٹ کیے گئے نمونوں میں 12 فیصد H3N2 مثبت پائے گئے۔
ماہرین کے مطابق سُپر فلو کی علامات عام نزلے اور زکام سے کہیں زیادہ شدید ہوتی ہیں۔ ان علامات میں تیز بخار، سردرد، شدید کھانسی، گلے میں خراش، جسم اور پٹھوں میں شدید درد، غیر معمولی تھکن اور کمزوری شامل ہیں۔ بعض مریضوں میں سانس لینے میں دشواری بھی رپورٹ ہو رہی ہے۔


