’پاکستان میں الیکٹرا نامی کمپنی نے ایک ایسی الیکٹرک کار کی بُکنگ کا آغاز کیا جس کی قیمت تقریباً 11 لاکھ روپے سے شروع ہوتی ہے۔یہ اب تک کی انتہائی سستی کار ہے۔
بی بی سی کے مطابق ’الیکٹرا‘ کے جنرل مینیجر احمد کمال نے بتایا کہ اب تک تقریباً 200 صارفین نے اس کار کی بُکنگ کروائی ہے اور پہلے مرحلے میں چین سے درآمد کیے جانے والے سی بی یو یونٹس کی ڈیلیوری آئندہ برس مارچ سے شروع ہو گی۔
انھوں نے بتایا کہ کار میں ٹو ڈور اور فور ڈور کے علاوہ بیٹری کے اعتبار سے تین آپشنز ہیں۔ ’اوسطاً اس کی بیٹری چارج ہونے میں پانچ سے چھ گھنٹے لیتی ہے اور ویریئنٹ کے حساب سے اِس کی رینج 100 سے 180 کلومیٹر تک ہے۔‘
پاکستان میں ’نورا‘ نامی کمپنی نے بھی اِسی طرح کی ایک ’مائیکرو کار‘ متعارف کروائی ہے۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے الیکٹرا کے جنرل مینیجر احمد کمال کا کہنا تھا کہ ’یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ گاڑی نہیں بلکہ کواڈری سائیکل ہے۔‘
یہ بھی پڑھئیے
چینی کمپنی نے دو مزید الیکٹرک گاڑیاں پاکستان میں متعارف کروا دیں، بکنگ اوپن – urdureport.com
ڈرائیور لیس رکشہ بھی بن گیا جلد سڑکوں پر ہو گا – urdureport.com
کواڈری سائیکل جنوبی ایشیا میں ٹُک ٹُک کے نام سے چلتی ہیں مگر الیکٹرا میٹرو اس کی چار پہیوں والی جدید قسم ہے جس میں سٹیئرنگ وہیل، ای سی ہیٹر اور ریورس کیمرا بھی ہے۔ ’اس کے تمام فیچر گاڑی والے ہی ہیں، مگر یہ گاڑی نہیں ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ کمپنی نہیں چاہتی کہ صارفین کی اس کے حوالے سے توقعات گاڑی جیسی ہوں۔
مگر احمد کمال کا کہنا تھا کہ کئی اعتبار سے یہ موٹر سائیکل سے بہتر اور محفوظ ہے۔ ’آپ بچوں کو موٹر سائیکل کی ٹینکی پر بٹھانے کی بجائے اس کواڈری سائیکل میں بٹھائیں اور انھیں سکول چھوڑیں یا سودا سلف خریدیں۔‘
احمد کمال کا کہنا تھا کہ کوراڈی سائیکل ایک بین الاقوامی سطح پر پہچانی جانے والی وہیکل کلاس ہے اور یہ چین میں اپنی کیٹگری کے انٹرنیشنل سیفٹی سٹینڈرڈز کلیئر کر کے پاکستان آتی ہے اور پاکستانی کسٹم حکام بھی اس کی سیفٹی رپورٹ کی جانچ کرتے ہیں۔
وہ صارفین کو آگاہ کرتے ہیں کہ اس ای وی پر ’ہائی سپیڈ روڈز پر پابندی ہے، جیسے موٹروے، جی ٹی روڈ، رِنگ روڈ یا ہائی وے۔ آپ اسے وہاں نہیں لے جا سکتے۔ اگر آپ ایسے کرتے ہیں تو حکام بھاری چالان کر سکتے ہیں۔ یہ صرف سوسائیٹیز، محلوں اور شہر کے اندر سفر کرنے کے لیے ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 45 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔‘

