پنجاب میں شہریوں کو کچھ مشروط شرائط کے ساتھ 25سال بعد پتنگ بازی کی دوبارہ اجازت مل گئِ ہے جس پر شہریوں نے تاثرات دیتے ہوئے کہا کہ اب ایک مرتبہ پھر آسمان رنگین ہو گا۔
جہاں حکومت نے پتنگ بازی کی مشروط اجازت دی ہے وہیں کئی حلقوں کی جانب سے پنجاب حکومت پر یہ زور دیا گیا ہے کہ اس اجازت کے ساتھ ساتھ حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ قواعد و ضوابط کے تحت پتنگ بازی ہو۔
کائٹ فلائنگ آرڈینس 2025 ک منظوری دی گئی ہے اس کو گورنر پنجاب نے منظور کیا جس پر حکومت کا کہنا ہے کہ اب مخصوص ایام اور مقامات پر قواعد و ضوابط کے تحت پتنگ اڑنے کی اجازت ہو گی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ پتنگ اڑانے کے لیے استعمال ہونی والی ڈور دھاگے کی بنی ہونی چاہیے اور کیمیکل یا دھاتی ڈور کے استعمال پر مکمل ممانعت ہو گی ،خلاف ورزی کر نے والوں کو بھاری جرمانے اور سزائیں ہو ں گی۔
پتنگ سازوں، پتنگ بازی میں استعمال ہونے والا سامان فروخت کرنے والوں، خریداروں اور کائٹ فلائینگ ایسوسی ایشن کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ اپنی رجسٹریشن کروائیں اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔
18 سال سے کم عمر بچوں کی پتنگ بازی کرنے کی اجازت نہیں ہو گی اور کم عمر بچوں کو پتنگ اڑانے پر پہلی مرتبہ پچاس ہزار روپے جرمانہ ہو گا اور پھر ایک لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔
جان لیوا حادثات کے سبب حکومتِ وقت نے بسنت کا تہوار منانے کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے پتنگ بازی پر سختی سے پابندی عائد کر دی۔
پنجاب میں سنہ 2006 میں اس وقت کی صوبائی حکومت نے پہلی مرتبہ پتنگ بازی اور بسنت منانے پر پابندی عائد کی اور اسے بعد ازیں 2007 میں قانونی شکل دی گئی۔

