امریکی ریئلٹی شو اسٹار کیم کارڈیشین نے اپنے پروگرام ’’دی کارڈیشینز‘‘ میں یہ ایک متنازع دعویٰ کر کے عالمی سطح پر 1969میں انسان کے چاند پر قدم رکھنے کے دعویٰ پر سوالات کھڑے کر دئیے ہیں ان کا کہنا تھا کہ 1969 کا اپولو 11 مشن دراصل ایک اسٹوڈیو میں فلمایا گیا ڈرامہ تھا، ریئلٹی شو اسٹار نے چاند پر قدم رکھنے سے متعلق نصف صدی پرانی تھیوری کو دوبارہ زندہ کردیا،جبکہ ناسا نے بھی اس کا جواب دے دیا ہے۔
کم کارڈیشین (Kim Kardashian) ایک امریکی ریئلٹی شو اسٹار، ماڈل، کاروباری خاتون اور سوشل میڈیا انفلوئنسر ہیں۔کِم کارڈیشین کو سب سے زیادہ شہرت ریئلٹی ٹی وی شو "Keeping Up with the Kardashians” سے ملی، جو 2007 سے 2021 تک نشر ہوا۔ اس شو میں ان کے خاندان کی روزمرہ زندگی کو دکھایا گیاکِم نے ریئلٹی ٹی وی کے بعد اپنا بزنس ایمپائر بنایا، جس میں شامل ہیں،SKIMS (لباس اور شئیپ ویئر برانڈ)،KKW Beauty اور KKW Fragrance (خوبصورتی اور خوشبو کے برانڈز) شامل ہیں۔

جبکہ ناسا نے بھی کم کارڈیشن کے اس دعویٰ کا جواب دیا ہے اور اس کو جھٹلایا ہے ،ناسا اور سائسندانوں نے اس کا سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ناسا نےکارڈیشین کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہاں ہم چاند پر 6بار جاچکے ہیں۔
دنیا کی سب سے مشہور شخصیات میں شمار ہونے والی کیم کارڈیشین ک سوشل میڈ پر 36 کروڑ سے زائد فالوورز ہیں، نے نہ صرف خلاباز نیل آرمسٹرانگ اور بز ایلڈرن کی تاریخی کامیابی پر سوال اٹھایا بلکہ ایک پرانی سازشی تھیوری کو دوبارہ زندہ کر دیا، جو نصف صدی سے سائنسدانوں کے لیے دردِ سر بنی ہوئی ہے۔کیم نے اپنے مؤقف کے ثبوت کے طور پر چاند پر لہراتے ہوئے جھنڈے کی ویڈیوز، تصاویر میں ستاروں کی غیر موجودگی، میوزیم میں رکھے گئے خلائی جوتوں کے نشانات، اور بز ایلڈرن کے پرانے انٹرویوز کا حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا مجھے یقین ہے کہ یہ ہوا نہیں۔ یہ سب جعلی تھا۔ ٹک ٹاک پر دیکھو، سب کچھ وہیں موجود ہے۔
سائنسدانوں نے کیم کارڈیشین کے تمام نکات کو سائنسی بنیادوں پر غلط قرار دیا،ماہرین کا کہنا ہے کہ چاند پر انسان کے قدم رکھنے کے شواہد ناقابلِ تردید ہیں۔انہوں نے وضاحت کی کہ چاند پر ہوا کی عدم موجودگی کے باعث جھنڈا لہرانے کا تاثر دراصل خلاباز کے ہاتھوں کے جھٹکوں۔ سے پیدا ہوا۔ تصاویر میں ستارے نظر نہ آنے کی وجہ کیمرے کی ایکسپوژر سیٹنگز تھیں جو چمکتی سطح اور سفید خلائی سوٹ کے مطابق ایڈجسٹ کی گئی تھیں۔میوزیم میں موجود جوتے صرف نمائشی نقل ہیں، جبکہ چاند کی مٹی ریگولیتھ زمین کی مٹی سے مختلف ہے، جو گہرے اور واضح نشانات چھوڑتی ہے۔ بز ایلڈرن کے جس انٹرویو کا حوالہ دیا جا رہا ہے، وہ ٹی وی اینیمیشنز سے متعلق تھا، نہ کہ اصلی مشن سے۔
یہ بھی پڑھیں
دبئی میں پانی میں تیرتا ہوا میوزیم بنانے کا اعلان – urdureport.com
چیٹ جی پی ٹی نے براوزر اٹلس متعارف کروا دیا گوگل کروم کی پریشانی کا آغاز – urdureport.com

