غیرملکی ائیرلائن کی پرواز کے ذریعے سعودی عرب سے کرا چی پہچنے والے مسافر میں بندروں سے انسانوں میں پھیلنے والی بیماری منکی پاکس وائرس کی علامات سامنے آئی ہیں۔جہاں ائیر پورٹ پر مسافر کی منکی پاکس وائرس جانچنے کےلیےاسکریننگ کی گئی۔
ائیر پورٹ ذرائع کا بتانا ہے کہ اسکریننگ کے دوران مسافرکو بخار اور جسم پردانے تھا جب کہ مسافر نے 5 روز سے مسلسل بخار ہونےکی بھی شکایت کی ہے۔
ائیر پورٹ ذرائع کے مطابق مسافرکو منکی پاکس وائرس علامات پر سندھ حکومت نے انفیکشن ڈیزیز اسپتال نیپامنتقل کردیا جہا ں پر اس کا علاج معالجہ کیا جا رہا ہے۔
ہم یہ جا ننے کی کو شش کرتے ہیں کہ آخر جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو نے والی بیماری منکی پاکس کیا ہے اس کی علامات اور بچاو کے طریقے کیا ہیں؟
منکی پاکس (Monkeypox) کا تعارف
منکی پاکس سنگین وائرل بیماری ہے جو چیچک سے مشابہت رکھتی ہے، تاہم یہ چیچک سے کم خطرناک ہے۔ یہ بیماری عام طور پر جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔ 2022 سے 2024 تک دنیا بھر میں منکی پاکس کے 99 ہزار سے زائد مصدقہ کیسز اور دو سو سے زیادہ اموات رپورٹ ہو چکی ہیں،اس بیماری نے جس نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔

منکی پاکس کی دریافت کیسے ہوئی
منکی پاکس پہلی بار 1958 میں ڈنمارک کی ایک تجربہ گاہ میں بندروں میں دریافت ہوئی چو نکہ یہ بیماری بندروں میں پائی گئی اس لیے اس کو "منکی پاکس” کا نام دیا گیا۔ بعد ازاں 1970 میں پہلی بار انسانوں میں یہ بیماری کنگو میں پائی گئی اور افریقہ کے ممالک میں یہ بیماری انسانوں میں منتقل ہوئی ۔
منکی پاکس کیا ہے
منکی پاکس ایک وائرل انفیکشن ہے جو پکس وائرس خاندان سے تعلق رکھتا ہے جو جانوروں سے انسانو ں میں آتا ہے۔ خصوصاً بندر، چوہے اور گلہریاں اس کے اہم کیرئیرز سمجھے جاتے ہیں جو یہ واءرس انسانو ں تک منتقل کر تے ہیں ۔ منکی پاکس وائرس کی دو بڑی اقسام میں وسطی افریقی (کنغوی) قسم، جو زیادہ خطرناک اور مغربی افریقی قسم، جو نسبتاً کم خطرناک ہوتی
منکی پاکس کیسے پھیلتی ہے
منکی پاکس وائرس متاثرہ جانور کے کاٹنے، خراش یا جسمانی مواد سے براہِ راست رابطے کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ بعض اوقات متاثرہ جانور کے گوشت کے استعمال سے بھی بیماری پھیل سکتی ہے۔ انسانوں میں یہ وائرس زیادہ تر متاثرہ شخص کے جسمانی مواد، جلد پر بننے والے دانوں، کپڑوں یا بستر کے ذریعے پھیلتا ہے۔
منکی پاکس کی علامات
منکی پاکس کی ابتدائی علامات میں مریض میں فلو، بخار، سر درد، جسمانی درد، اور تھکن شامل ہوتے ہیں۔ بخار کے بعد گلے کے غدود (لیمف نوڈز) سوج جاتے ہیں جو چیچک سے اس بیماری کو مختلف بناتے ہیں۔ پھر جسم پر دانے نکلتے ہیں جو اکثر چہرے سے شروع ہو کر پورے جسم پر پھیل جاتے ہیں۔ بعد ازاں ان دانوں پر پپڑیاں بن جاتی ہیں جو خشک ہو کر گر جاتی ہیں۔ بیماری کی شدت عام طور پر درمیانی ہوتی ہے اور زیادہ تر مریض دو سے چار ہفتوں میں صحت یاب ہو جاتے ہیں، تاہم بچوں، حاملہ خواتین اور کمزور مدافعتی نظام والے افراد میں یہ بیماری زیادہ شدید ہو سکتی ہے۔
منکی پاکس کی تشخیص
منکی پاکس کی تشخیص مریض کی علامات اور طبی تاریخ کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ چونکہ اس کی علامات چیچک اور دیگر جلدی امراض سے ملتی جلتی ہیں، اس لیے درست تشخیص کے لیے لیبارٹری ٹیسٹ ضروری ہوتے ہیں۔ پی سی آر (PCR) ٹیسٹ منکی پاکس وائرس کی تصدیق کے لیے سب سے مؤثر طریقہ ہے۔ اس کے علاوہ خون کے ٹیسٹ اور وائرس کلچر کے ذریعے بھی وائرس کی شناخت کی جا سکتی ہے۔
منکی پاکس کا علاج
منکی پاکس کا کوئی خاص علاج موجود نہیں ، یہ ایک وائرل بیماری ہے۔ علاج عموماً علامات کو کم کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ مریض کو آرام، مناسب غذا، اور پانی یا دیگر سیال کی فراہمی پر توجہ دی جاتی ہے۔ بخار اور درد کو کم کرنے کے لیے عام ادویات دی جاتی ہیں۔ چیچک کی ویکسین منکی پاکس کے خلاف 85 فیصد تک مؤثر مانی جاتی ہے، لہٰذا ایسے افراد جنہیں منکی پاکس کا خطرہ ہو، انہیں ویکسین لگوائی جا سکتی ہے۔
منکی پاکس کی روک تھام
منکی پاکس سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا لازم ہیں ایسے علاقوں میں جہاں یہ بیماری عام ہو، جنگلی جانوروں سے رابطوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ کسی بھی گوشت کو کھانے سے پہلے اچھی طرح پکانا ضروری ہے تا کہ اگر اس بیماری کے اثرات اس میں شامل ہو ں تو زائل ہو جایں۔ متاثرہ افراد سے قریبی جسمانی رابطے سے گریز اور ان کی استعمال شدہ اشیاء کو احتیاط سے سنبھالنا چاہیے۔
عالمی سطح پر پھیلاؤ
پہلے منکی پاکس افریقہ کے چند علاقوں تک محدود تھا، مگر 2022 کے بعد یہ دنیا کے کئی ممالک میں پھیل گیا۔ یورپ، امریکہ، اور ایشیا میں بھی اس کے کیسز رپورٹ ہوئے، جس کے بعد عالمی ادارہ صحت نے اسے عالمی صحت عامہ کی ایمرجنسی قرار دیا۔ اس پھیلاؤ کی وجوہات میں بین الاقوامی سفر، جانوروں کی تجارت، اور ماحولیاتی تبدیلیاں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
مینو پاز کیا ہیں،مینوپاز کی دوا کی منظوری – urdureport.com
منکی پاکس کی احتیاط
اگرچہ منکی پاکس چیچک کی طرح مہلک نہیں ہے، مگر عالمی سطح پر اس کے بڑھتے ہوئے کیسز تشویشناک ہیں۔ مناسب احتیاطی تدابیر، ویکسینیشن، عوامی آگاہی، اور عالمی تعاون کے ذریعے اس بیماری کو قابو میں لایا جا سکتا ہے۔ بروقت اقدامات ہی مستقبل میں کسی بڑی وبا سے بچاؤ کا مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔اس بیماری کے بارئے حکومتی سطح پر عوام میں آگاہی پیدا کر نے کی ضرورت ہے تا کہ لوگ احتیاطی تدا بیر اختیار کر سکیں۔
نوٹ (یہ ایک معلوماتی آرٹیکل ہے جو کہ عوامی آگاہی کے لیے شائع کیا جا رہا ہے کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے)

