ترجمان پاکستانی فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ خیبر پختونخوا میں ایک ایسی قیادت لائی جائے جو ریاست کے خلاف ہو کیونکہ اسٹیبلشمنٹ بھی ریاست کا ایک ادارہ ہے۔
پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی کے سوال کے جواب میں انہو ں نے کہا کہ ’اسٹیبلشمنٹ ریاست کا ادارہ ہے۔ کیا (خیبر پختونخوا میں) ایسی قیادت لائی جا رہی ہے جو ریاست کے خلاف ہے؟ ایسا نہیں ہوسکتا۔ ریاست پاکستان انتہائی مضبوط ہے۔ سیاسی رکاوٹوں کے باوجود دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔‘
پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی کا ٹرائل ہو رہا ہے، ان کا کورٹ مارشل ہورہا ہے۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ فوج میں خود احتسابی کا عمل الزامات پر نہیں ہوتا بلکہ حقائق پر ہوتا ہے
خیبر پختونخوا میں جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ ہے۔ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو اسپیس دی گئی۔ کسی فرد واحد کو اجازت نہیں دی جاسکتی کہ پاکستان اور کے پی کے غیور عوام کی جان، مال اور عزت کا سودا کرے۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹینںٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ یہاں آنے کا مقصد خیبر پختونخوا کے غیور عوام کے درمیان بیٹھ کر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبے کے عوام کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہے۔
ایک دوسرے سوال کے جواب میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’نو مئی کے واقعات کے بارے میں ہمارا موقف واضح ہے۔ یہ افواج پاکستان کا نہیں قوم کا مقدمہ ہے۔ کوئی بھی ملک آگے نہیں بڑھ سکتا جب تک ان واقعات کو کرنے والے اور کروانے والے، ان کی منصوبہ بندی کرنے والوں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جائے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’جس ملک کے اندر آپ افواج، ان کے شہدا اور ان کے مقامات کو جلائیں، گھیراؤ کریں۔۔۔ تو اس پر نظام انصاف کے لیے سوالیہ نشان پیدا ہوجاتا ہے۔‘’پاکستان کے عوام نو مئی کے مقدمات کے سب سے بڑے ضامن ہیں۔ ریاست اس کی ضامن ہے۔‘
ریاست اور عوام کو ایسے شخص کے فیصلے اور خواہش پر نہیں چھوڑ سکتے جو کے پی میں دہشتگردی واپس لانے کا اکیلا ذمے دار ہو۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ اس کی سیاست ریاست سے بڑی ہے تو یہ ہمیں قبول نہیں، آپ کہہ رہے ہیں ایسی قیادت لائی جارہی ہے جو ریاست کے خلاف ہے ایسا نہیں ہوسکتا ہے، دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کےلیے زمین تنگ کردی جائے گی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر کوئی فرد واحد سمجھتا ہے کہ اس کی ذات پاکستان سے بڑی ہے تو یہ ہمیں قبول نہیں، ہمارے لیے تمام سیاسی جماعتیں اور رہنما قابل احترام ہیں۔

