سر گنگا رام وہ عظیم شخصیت جنہو ں نے لاھور سے محبت کا قرض اتارا،لاھور کو بے مثال بنایا اور جدید لاھور کے باپ کہلائے ۔

سر گنگا رام کی سمادھی پر حملہ
سر گنگا رام (1851-1927)کی خواہش کے مطابق 1927ء میں لندن میں انتقال کے بعد ان کی چتا کی راکھ کو تقسیم کیا گیا تھا۔ اس کاایک حصہ(ہندو دھرم) دریائے گنگا میں بہایا گیا، جبکہ باقی راکھ لاہور لائی گئی اور دریائے راوی کے کنارے ان کی سمادھی میں دفن کی گئی۔
سر گنگا رام کی لاھور سے محبت کا یہ عالم تھا آج جدید لاھور انہی ہی کی رکھی ہوئی بنیاد پر کھڑا ہےخواجہ حسن نظامی جو کہ دہلی کے ممتاز صوفی انشا پرداز ،صحافی اور مصنف اور سب سے بڑھ کر یہ کہ حضرت نظام الدین اولیاء کے عقیدت مند تھے انہوں نے سر گنگا رام کی طویل عمر کی دعا کی۔
خواجہ حسن نظامی نے کہا کہ تھا کہ اگر یہ ممکن ہوتا کہ ایک آدمی اپنی زندگی کسی دوسرے کو دے دے تو میں پہلا شخص ہوتا جو اپنی زندگی کے قیمتی سال سر گنگا رام کو دے دیتا۔
سعادت حسن منٹو کی لکھی ہوئی کہانی پڑھ کر قاری تجسس میں پڑ جاتا ہے آخر گنگا رام کون تھَا ؟
‘ہجوم نے رخ بدلا اور سر گنگا رام کے بت پر پل پڑا۔ لاٹھیاں برسائی گئیں، اینٹیں اور پتھر پھینکے گئے۔ ایک نے منھ پر تارکول مل دیا۔ دوسرے نے بہت سے پرانے جوتے جمع کیے اور ان کا ہار بنا کر بت کے گلے میں ڈالنے کے لیے آگے بڑھا۔ مگر پولیس آ گئی اور گولیاں چلنا شروع ہوئیں۔ جوتوں کا ہار پہنانے والا زخمی ہو گیا، چنانچہ مرہم پٹی کے لیے اسے سر گنگا رام ہسپتال میں بھیج دیا گیا۔‘
گنگا رام کا پڑپوتا ڈاکٹر آشون رام جارجیا کے ایک کالج میں پروفیسر ہے اور ان کی پڑپوتی شیلا ایک بیرونس برطانیہ میں استاد ہیں۔
بابری مسجد کے ردعمل میں جہاں بہت سے ہندو اور جین مندر اور گرودوارے مسمار کئے گئے وہاں اس ہجوم نے بنا سوچے لاہور کے سب سے بڑے محسن سر گنگا رام کی سمادھی کو بھی نہ چھوڑا۔اس کے بعد ان کی پڑپوتی شیلا نے لاہور آ کر اسے دوبارہ تعمیر کیا بلکہ گنگا رام ہسپتال کیلئے بھی ایک خطیر رقم وقف کر دی۔‘
یہ سمادی راوی روڈ پر آزادی چوک کے قریب گھنی گلیوں کے درمیان پوشیدہ ہے۔اب اسکی مناسب دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔
سر گنگا رام فادر آف لاھور
اردو کے ممتاز ادیب مستنصر حسین تارڑ نے اپنی کتاب ’لاہور آوارگی‘ میں گنگا رام کو ’فادر آف لاہور‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’آج کا لاہور اسی ایک شخص کی ناقابل یقین کوششوں سے وجود میں آیا۔ ‘ان کی موت پر گورنر پنجاب نے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’وہ ایک بہادر ہیرو کی مانند ہمیشہ ہر شے کو تسخیر کر لیتا تھا اور ایک سینٹ یا صوفی کی مانند اپنی دولت لوگوں میں بانٹ دیتا تھا۔‘
بی پی ایل بیدی کی کتاب ‘ہارویسٹ فرام دی ڈیزرٹ: دی لائف اینڈ ورک آف سر گنگا رام (Harvest From The Desert: The Life and Work of Sir Ganga Ram) میں بتاتے ہیں کہ
لاہور کے مال روڈ کی بیشتر عمارتیں جن میں لاہور ہائی کورٹ، جی پی او، عجائب گھر، نیشنل کالج آف آرٹس، کیتھڈرل سکول، ایچیسن کالج، دیال سنگھ مینشن اور گنگا رام ٹرسٹ بلڈنگ شامل ہیں یہ سبھی سر گنگا رام نے بنوائی تھیں ۔
صرف یہی نہیں بلکہ میو ہسپتال کا البرٹ وکٹر وارڈ، لیڈی میکلیگن ہائی سکول، لیڈی مینارڈ سکول آف انڈسٹریل ٹریننگ، راوی روڈ کا ودیا آشرم اورگورنمنٹ کالج لاہور کی کیمسٹری لیبارٹری بھی انہی کی ہی بنوائی ہوئی ہیں۔
لاھور کی ٹھنڈی سڑک

سر گنگا رام وہ شخصیت تھیں جنہوں نے 1920 کی دہائی میں ماڈل ٹاؤن لاہور کی پلاننگ کی اور مال روڈ کو درختوں سے سجانا انہی کا کارنامہ تھا۔انہوں نے بلا شبہ اپنی زندگی کو فلاحی کاموں کے لیے وقف کیے رکھا۔
اور یہ وہی سر گنگا رام رام تھے جن کی کاوشوں کی بدولت آج کے لاھوری مال روڈ کو ٹھنڈی سڑک کہتے ہیں۔
گنگا رام فیملی کی پنجاب آمد
سر گنگا رام کے آباو اجداد اترپردیش کے ضلع مظفر نگر کے رہنے والے تھے بنیادی طور پر دریائے ستلج کو پار کر کے پنجاب میں داخل ہوئے تھے۔ لیکن وہ انیسویں صدی میں پنجاب میں آکر آباد ہوئے اس وقت یہ علاقہ سکھوں کے پاس تھا مگر بعد می انگریز کے تسلط میں چلا گیا۔
ان کے والد دولت رام جو کہ منگٹانوالے میں پولیس کے محکمے میں جونئیر انسپکٹر بھرتی ہوئے ان کو ایک سادھو نے دعا دی تھی ان کو واہ گرو ایک بیٹا عطا کرئے گا وہ اپنے دور میں وہی کچھ کر کے دکھائے تو جو وکرما دیتا نے اپنے دور میں کیا تھا،سن 1851 میں سکھوں میں بیساکھی کا تہوار منایا جا رہا تھا تو ان کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی جس کا نام انہوں نے گنگا رام رکھا۔
گنگا رام کے والد دولت رام ڈاکووں کی دھمکی کی وجہ سے منگٹانوالا چھوڑ کر بیوی اور بچے کے ساتھ امرتسر پہنچ گیا۔ جبکہ دولت رام نے میٹڑک کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے اپنے بیٹے کولاھور بھجوا دیا جہاں گنگا رام 1869 میں گورنمنٹ کالج لاھور کے طالبعلم بن گئے۔
کہا جاتا ہے کہ سر گنگا رام ایک دن کنویں میں گرے اور ان کو معجزانہ طور پر بچا لیا گیا اور ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہو گیا کہ ان کو کسی بڑے مقصد کے لیے بچایا گیا ہے۔اسی طرح وہ ایک دن لاھور مین اپنے ایک رشتے دار ایگزیکٹو انجئینر سے ملنے ان کے دفتر گئے،وہ کچھ دیر فرش پر بیھٹہ کر ان کا انتظار کرتے رہے پھر کرسی پر بیھٹہ گئے لیکن ان کا وہ رشتہ دار جب آیا تو اس کو یہ دیکھ کر برا لگا۔
سر گنگا رام نے اپنے رشتہ دار سے کہا کہ ایک دن مین میں اس کرسی پر بیھٹوں گا پھر وہی ہوا گنگا رام بارہ سال تک اس کرسی پر بیھٹے۔گورنمنٹ کالج سے انٹر بعد گنگا رام روڑکی چلے گئے جہاں انہیں پچاس روپے ماہانہ وظیفے کے ساتھ ہندوستان کے پہلے انجینئرنگ کالج میں داخلہ مل گیا جہاں سے گولڈ میڈل کے ساتھ انجینئرنگ کا امتحان پاس کیا۔
سر گنگا رام اسسٹنٹ انجئینر بن کر پھر لاھور آئے بعد ازاں ان کی گورداس پور، امرتسر اور ڈیرہ غازی خان جیسے شہروں میں پوسٹنگ رہی۔ڈیرہ غازی خان میں گنگا رام کی ملاقات ضلع کے ڈپٹی کمشنر سر رابرٹ سینڈمین سے ہوئی اور انہوں نے گنگا رام کی قابلیت کو دیکھتے ہوئے واٹر ورکس اور ڈرینج کے شعبے میں تربیت حاصل کرنے کے لیے انگلستان بھجوا دیا۔
انگلستان سے واپسی پر گنگا رام کو پشاور میں پانی کی فراہمی اور نکاسی منصوبوں کی ذمہ داری مل گئی۔پھر وہ لاہور کے ایگزیکٹو انجینئر بنا دیے گئے۔ یہ وہی عہدہ تھا جس کی کرسی پر بیٹھنے پر ان کے ایک رشتے دار نے انہیں برا بھلا کہا تھا۔ اب گنگا رام کی زندگی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔
گنگا رام کی قابلیت اور کارنامے
سر گنگا رام نے اپنی قابلیت کے بل بوتے پرلاھور کو جدید دور سے متعارف کروایالاھور کی مال روڑ کو جدید طرز کی عمارتوں سے سجا دیا۔انہوں نے پنجاب میں خشک زمینوں کی سیرابی کے منصوبے بنائے جس سے ہزاروں ایکڑ بنجر زمینیں کاشت کاری کے قابل بن گئیں۔
انھوں نے پنجاب میں نہر کے پانی کو بلندی تک لے جانے کے لیے پہلی مرتبہ موٹروں کا استعمال کیا جس سے 90 ہزار ایکڑ زمین سیراب ہوئی جو اس وقت کی ہندوستان کی سب سے بڑی زرعی اراضی تھی۔
سر گنگا رام کو رائے بہادر کا خطاب

حکومت ہند نے ان کے شاندار کارناموں کو دیکھتے ہوئے گنگا رام کو رائے بہادر کے خطاب سے نوازا۔
گنگا رام نے 1903میں سرکاری ملازمت کو خیر باد کہا اور اپنے بیٹے سیوک رام کو ساتھ ملایا اور لاھور میں خدمت خلق مین مصروف ہو گئے۔
سر گنگا رام کی یہ خوبی تھی کہ وہ جس خدمت خلق کے منصوبے کو عوام کے لیے ضروری سمجھتے اس کو کر گزرتے ۔
گنگا پور کی آباد کاری
گنگا رام نے سب سے پہلے ضلع لائلپور جسے بعد میں فیصل آباد میں تبدیل کر دیا گیا وہاں پر پانچ سو ایکڑ زمین خرید کر ایک گاؤں آباد کیا اور اس گاوں کو گنگا پور کا نام دیا گیا۔
ان کا یہ کارنامہ تھا کہ انہوں نے گنگا پور میں ہزاروں کی تعداد میں درخت لگائے گئے، فصلوں، سبزیوں کے لیے معیاری اور غیر ملکی بیجوں کا بندوبست کیا اور مقامی کسانوں کو اس جدید طرز کی کاشتکاری سے متعارف کروایا۔انگریزی، فرانسیسی اور کینیڈین گندم ایک ساتھ کاشت کرنے کا تجربہ کیا گیا۔ سبزیوں اور پھلوں کے بیجوں کی پیوندکاری سے ان کی کاشت میں بھی اضافہ ہوا۔
گنگا پور ہندوستان کا پہلا فارم تھا جس کو زرعی مشینری کے استعمال کا اعزاز حاصل ہوا۔باغبانی کے جدید طریقوں سے آلات تیار کیے جاتے تھے۔ یہ مقام ریلوے سٹیشن سے تقریباً دو میل کے فاصلے پر تھا اور ان کو یہاں پر جدید آلات لانے اور لے جانے کے لیے ٹرانسپورٹ آسانی سے دستیاب تھی۔
گھوڑا ٹرین کا آغاز
پنجاب کی سب سے بڑی تحصیل جڑانوالہ میں واقع گاؤں گنگاپور ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ سر گنگا رام وہی عظیم انجینئر اور معمار جنہوں نے جیمز لائل اور ڈسمنڈ ینگ کے ساتھ مل کر فیصل آباد کے گھنٹہ گھر کا نقشہ بنایا اور تعمیر کروایا۔ سر گنگا رام نے گنگا رام اسپتال سمیت پنجاب کی ترقی میں بے شمار ایسے کام کیے جو آج بھی کم ٹیکنالوجی کے باوجود حیران کر دیتے ہیں۔

گنگاپور کو عالمی شہرت دلانے والا کارنامہ گھوڑا ٹرین تھا، جو 1898ء میں وجود میں آئی۔ پانی کی کمی دور کرنے کے لیے منگوائی گئی بھاری موٹر کو بچیانہ ریلوے اسٹیشن سے گنگاپور لانے کے لیے تین میل طویل ریلوے ٹریک بچھایا گیا، جس پر گھوڑے سے کھنچنے والی لکڑی کی ٹرالی چلتی تھی۔ بعد ازاں یہی گھوڑا ٹرین برسوں تک گنگاپور اور بچیانہ کے درمیان تقریباً چار کلومیٹر کا سفر طے کرتی رہی، مگر کئی دہائیوں بعد یہ منفرد ایجاد وقت کی گرد میں گم ہو گئی۔
سر گنگا رام نے اسے ریلوے سٹیشن سے جوڑنے کے لیے دو فٹ چوڑی پٹری ڈالی جس پر چار ٹرالیوں کو ایک دوسرے سے جوڑ کر درمیانے سائز کے گھوڑوں کے ذریعے کھینچا جاتا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سو سال گزرنے کے باوجود یہ گھوڑا ٹرین آج بھی زیر استعمال ہے۔مجبور خواتین کی فلاح کے لیے خدمات انجام دیتا رہے۔خواہش کا اظہار کیا۔
لاھور کے لیے سر گنگا رام کی خدمات

1921ء میں سر گنگا رام نے لاہور کے وسط میں ایک خیراتی ڈسپنسری قائم کی، جو بعد میں گنگا رام ٹرسٹ کے تحت ایک بڑے ہسپتال میں تبدیل ہوئی۔ یہ ہسپتال آج بھی میو ہسپتال کے بعد لاہور کا سب سے بڑا طبی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اسی ادارے کے تحت لڑکیوں کے لیے ایک میڈیکل کالج قائم ہوا، جو قیامِ پاکستان کے بعد فاطمہ جناح میڈیکل کالج بنا اور خواتین کی طبی تعلیم کا نمایاں ادارہ ثابت ہوا۔
سر گنگا رام نوجوانوں کو تجارت اور معاشی خودمختاری کی طرف راغب کرنے کے حامی تھے۔ انہوں نے کامرس کالج کا منصوبہ پیش کیا اور جب حکومت نے جگہ نہ ہونے کا عذر پیش کیا تو انہوں نے اپنا ذاتی گھر تعلیمی مقصد کے لیے دے دیا۔ یہی عمارت آج ہیلے کالج آف کامرس کے طور پر لاہور کی پہچان ہے۔
1925ء میں سر گنگا رام نے دیوان کھیم چند کے ساتھ مل کر ماڈل ٹاؤن لاہور کی بنیاد رکھی، جو آج بھی شہر کی بہترین رہائشی اسکیموں میں شمار ہوتی ہے۔ اسی سال انہیں امپیریل بینک آف انڈیا کا گورنر مقرر کیا گیا، جو ان کی انتظامی صلاحیتوں اور خدمات کا اعتراف تھا۔
بیوہ عورتوں کی شادی کا خیراتی ادارہ
سر گنگا رام بیوہ خواتین کی دوسری شادی کے مضبوط حامی تھے، کیونکہ اس دور میں برصغیر میں ڈھائی کروڑ سے زائد بیوائیں موجود تھیں۔ اسی مقصد کے لیے انہوں نے ایک خیراتی ٹرسٹ قائم کیا جو پہلے پنجاب وڈو ری میرج ایسوسی ایشن کہلایا اور بعد ازاں اس کا دائرہ پورے ہندوستان تک پھیلنے پر آل انڈیا وڈو ری میرج ایسوسی ایشن بن گیاپھراپنی عالیشان عمارتیں ٹرسٹ کے حوالے کر دیں۔
اس پلیٹ فارم کے ذریعے ہزاروں بیوہ خواتین کی شادیاں ہوئیں، جبکہ جن کی شادی ممکن نہ ہو سکی ان کے لیے وڈو ہوم اسکیم، لاہور میں انڈسٹریل اسکول اور مصنوعات کی فروخت کا نظام قائم کیا گیا تاکہ وہ خود کفیل بن سکیں،یہی بے لوث خدمات تھیں جن پر خواجہ حسن نظامی جو کہ دہلی کے ممتاز صوفی انشا پرداز ،صحافی اور مصنف اور سب سے بڑھ کر یہ کہ حضرت نظام الدین اولیاء کے عقیدت مند تھے نے سر گنگا رام کی طویل عمر کی
جب خواجہ حسن نظامی نے کہا کہ تھا کہ اگر یہ ممکن ہوتا کہ ایک آدمی اپنی زندگی کسی دوسرے کو دے دے تو میں پہلا شخص ہوتا جو اپنی زندگی کے قیمتی سال سر گنگا رام کو دے دیتا تاکہ وہ طویل عمر تک زندہ رہیں اور بھارت کی
سر گنگا رام کی وفات
سر گنگا رام رائے ایگری کلچرل کمیشن کے ممبر بن کر انگلستان روانہ ہوگئے اور10 جولائی 1927 کو لندن ہی میں ان کی وفات ہوگئی۔ ان کی آخری رسومات لندن ہی میں ادا کی گئیں۔
گنگا رام کی راکھ ہندوستان لائی گئی جہاں آدھی راکھ دریائے گنگا میں بہا دی گئی اور باقی آدھی راکھ لاہور میںراوی روڈ پر معذور مردوں اور عمر رسیدہ عورتوں کے لیے قائم کیے گئے آشرموں کے درمیان ایک میدان میں دفن کردی گئی، جہاں سنگ مرمر کی ایک سمادھی تعمیر کی گئی۔ یہ سمادھی آج بھی موجود ہے اور اہل لاہور کو گنگا رام کی یاد دلاتی ہے۔
ادھر 1951 میں بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں سر گنگا رام کی یاد میں ایک ہسپتال بنایا گیاجس کا سنگ بنیاد وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے رکھا۔ یہ ہسپتال سر گنگا رام کے داماد دھرم ویر جو کہ جواہر لعل نہرو کے کیبنٹ سیکریٹری تھے ان کی خواہش پر تعمیر کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئِے

