سکھر میں اونٹ کی ٹانگ کاٹنے کے واقعے پر وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے نوٹس لینے کے بعد ان کے حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے زخمی اونٹ کا علاج کیا جا رہا ہے۔ جبكہ دوسرے ملزم كو بھی گرفتار كر لیا ہے۔
ترجمان وزیرِ اعلیٰ سندھ عبدالرشید چنا کے مطابق وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ بے زبان جانوروں پر ظلم ناقابلِ برداشت ہے، جانوروں پر ظلم کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہو گی۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ کے حکم پر چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل کمیل شاہ کی نگرانی میں روہڑی میں زخمی اونٹ کا علاج جاری ہے۔

وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ہدایت کی ہے کہ اگر ضرورت پڑے تو مزید علاج کے لیے زخمی اونٹ کو کراچی منتقل کیا جائے۔
زخمی اونٹ کے علاج پر اس کے مالک محمد امین نے سندھ حکومت کے اقدامات پر اطمنان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ سندھ کی ہدایت پر ضلعی چیئرمین، مختارِکار اور دیگر حکام موقع پر پہنچے، وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل سکھر کمیل شاہ کے مشکور ہیں۔
چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل سکھر کمیل شاہ نے وزیرِ اعلیٰ سندھ کو رپورٹ بھی پیش کر دی جس کے مطابق روہڑی میں جانوروں کے اسپتال کے ڈاکٹرز کی ٹیم اونٹ کا علاج کر رہی ہے۔
سید کمیل شاہ کا کہنا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو اونٹ کا علاج کراچی میں کروایا جائے گا۔
یاد رہے کہ گزشتہ رات کچھ لوگ اونٹ کو کلہاڑیوں سے زخمی کر کے فرار ہو گئے تھے جس پر وزیرِ اعلیٰ سندھ نے نوٹس لیتے ہوئے مجرموں کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت کی تھی۔
سکھر میں اونٹ کی ٹانگ کاٹنے کے واقعے کے بعد پولیس نے ایک اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے مقدمے میں نامزد دوسرےملزم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔
ترجمان سکھر پولیس کے مطابق ایس ایس پی سکھر اظہر خان کے سخت احکامات اور نوٹس لینے کے بعد ایس ایچ او تھانہ کندرا نے خفیہ اطلاع پر ایک اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے واقعے میں ملوث دوسرے ملزم رسول بخش شیخ کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔
اس سے پہلے اس واقعے میں ملوث ملزم قربان بروہی کو پولیس نے آج صبح گرفتار کیا تھا، پولیس کی جانب سے گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز سکھر کی تحصیل صالح پٹ میں با اثر وڈیرے نے مبینہ طور پر اونٹنی کو بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔
کھیت میں گھس کر پانی پینے پر وڈیرے نے مبینہ طور پر اونٹنی کی ٹانگ توڑ دی تھی۔
اونٹنی کے مالک کے مطابق وڈیرے نے غصے میں اونٹنی کو ٹریکٹر سے باندھ کر گھسیٹا اور منہ پر ڈنڈے بھی مارے، زخمی اونٹنی کا علاج کرانے اسپتال پہنچے تو ڈاکٹروں نے علاج کرنے انکار کر دیا تھا۔
واقعے کا وزیرِ اعلیٰ سندھ نے نوٹس لیتے ہوئے مجرموں کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت کی تھی۔

