ایبٹ آباد میں بینظیر شہید ڈسٹرکٹ اسپتال کی ڈاکٹر وردا کو جمعرات کو اغوا کر کے قتل کر دیا گیا،پولیس نے ملزمان کی نشاندہی پر ڈاکٹر وردا کی لاش آج صبح برآمد کر لی ہے اور ساتھ ہی ڈاکٹر وردا کے قتل کا معمہ بھی حل ہو گیا ۔
ڈی پی او نے کہا کہ ڈاکٹر وردا کو اس کی سہیلی ردا نے اسپتال سے ساتھ لے جانے کے بعد محض آدھے گھنٹے میں قتل کر دیا کیو نکہ ڈی پی او ایبٹ آباد ہارون رشید کے مطابق ملزمہ ردا کا مقصد ڈاکٹر وردا کا 67 تولہ سونا واپس لینا تھا۔
پولیس نے تصدیق کی ہے کہ ڈاکٹر وردہ کے قتل کے الزام میں ان کی بچپن کی دوست اور اس کے دو ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور اس کیس میں 67 تولہ سونے کا ذکر کیا گیا ہے۔
ڈی پی او کا کہنا تھا کہ ملزمہ ردا نے اپنے گھر میں دیگر ملزمان ندیم، پرویز اور شمریز کے ساتھ مل کر یہ واردات انجام دی۔واقعے کے بعد ڈاکٹرز کی جانب سے تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ایبٹ آباد کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) ہارون الرشید کا کہنا ہے کہ مقتولہ نے دو برس قبل دبئی جانے سے پہلے 67 تولہ سونا اپنی ایک دوست کے پاس امانتاً رکھوایا تھا اور ’یہی سونا ڈاکٹر وردہ کے قتل کی وجہ بنا۔‘
ڈی پی او ہارون الرشید کہتے ہیں کہ مقتولہ خاتون ڈاکٹر نے بیرونی ملک جانے سے قبل اپنی قابل اعتماد دوست کے پاس زیور امانتاً رکھوایا تھا اور پولیس کی تفتیش میں پتا چلا کہ اس زیور کی حفاظت کرنے کے بجائے ان کی دوست نے یہ سونا بینک میں رکھوا کر پچاس لاکھ قرض حاصل کیا کیونکہ ملزمہ کے خاندان کو کاروبار میں نقصان ہوا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جب مقتولہ ڈاکٹر بیرونی ملک سے واپس آئیں تو انھوں نے زیور کی واپسی کا تقاضا کیا۔ پہلے تو ملزمہ نے ٹال مٹول سے کام لیا مگر جب مقتولہ ڈاکٹر کا تقاضا بڑھنے لگا اور معاملہ سامنے آنے لگا تو ملزمہ نے اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ مل کر قتل کا منصوبہ بنایا۔‘
یہ بھی پڑھئیے
ڈکی بھائی کے ایف آئی اے افسران پر سنگین الزامات – urdureport.com
ڈی پی او ہارون الرشید کہتے ہیں کہ ملزمہ نے ڈاکٹر وردہ کو قتل کرنے کے لیے اپنے شوہر کے کاروبار سے منسلک تین ملازمین کی مدد حاصل کی تھی۔
مقتولہ ملزمہ کے ہمراہ 11 بجے کے بعد ہسپتال سے گئی تھیں اور سی سی ٹی وی کیمروں کا جائزہ لیتے ہوئے معلوم ہوا کہ ڈاکٹر وردہ ملزمہ کے ساتھ اپنی مرضی سے گئی تھیں۔
تھانہ کینٹ کے ایس ایچ او کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر انھیں ملزمہ نے بتایا تھا کہ مقتولہ کو زیورات واپس کر دیے گئے تھے اور اس کے بعد ڈاکٹر وردہ کا ان سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔
’مگر یہ بات پولیس کو مطمئن نہ کرسکی۔ اردگرد کے سی سی ٹی وی کیمروں کا جائزہ لیا گیا تو پتا چلا کہ ایک گاڑی زیر تعمیر گھر والی سڑک میں داخل ہوتی ہے اور پھر دس منٹ بعد واپس چلے جاتی ہے۔‘
تھانہ کینٹ کے ایس ایچ او زبیر تنولی مزید کہتے ہیں کہ پولیس کو ملزمہ کے ڈرائیور نے بتایا کہ ان کی مالکن مقتولہ کے ساتھ گھر آئیں تھیں اور انھوں نے ڈرائیور سے کہا کہ وہ بچوں کو سکول لینے کے لیے ان کے ساتھ چلیں۔
پولیس افسر کہتے ہیں کہ ملزمہ گھر میں پہلے سے ہی موجود تین ملزمان کے پاس مقتولہ کو چھوڑ کر چلی گئیں۔
’ابتدائی تفتیش میں پتا چلا ہے کہ ملزمان نے دس سے پندرہ منٹ میں پھندا لگا کر مقتولہ کو قتل کیا اور ملزمان جس گاڑی میں آئے تھے اسی گاڑی میں مقتولہ کو لے کر دفیانے چلے گے تھے۔‘ ملزمان نے قتل اور دفانے کی ساری کارروائی ’اندازاً ایک گھنٹے سے تھوڑے زیادہ وقت میں مکمل کی۔‘
ایبٹ آباد کے ڈی پی او ہارون الرشید کا دعویٰ ہے کہ گرفتار ملزمان نے اعتراف کیا ہے کہ ڈاکٹر وردہ کو اغوا اور قتل کر کے تھانہ بکوٹ کی حدود میں واقع لڑی بنوٹہ جنگل میں گڑھا کھود کر دفن کیا گیا تھا۔
ڈی پی او کا کہنا ہے کہ ایک ملزم کی نشاندہی پر ایس پی انویسٹی گیشن اور ڈی ایس پی ہیڈکوارٹرز کی قیادت میں لاش برآمد کر لی گئی، جسے پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے اب تک 100 سے زائد مقامات پر چھاپے مارے، 35 سے زائد مشتبہ افراد سے تفتیش کی، جرم میں استعمال ہونے والی گاڑیاں، طلائی زیورات سے متعلق سٹامپ پیپر اور چیک قبضے میں لے لیے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ کے ساتھ مل کر ڈاکٹر وردہ کو قتل کرنے والوں میں ایک چچا بھتیجا بھی ملوث ہیں، جنھیں مبینہ طور پر پیسوں کی لالچ دی گئی تھی۔
ڈاکٹر وردہ کے والد محمد مشتاق پاکستانی فضائیہ کے ریٹائرڈ ملازم ہیں۔ مقتولہ کے خاندانی دوست ڈاکٹر محمد معظم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈاکٹر وردہ کے والد اٹک کے علاقے کے رہائشی ہیں، جنھوں نے ایبٹ آباد کے نجی کالج میں بیٹی کو پڑھانے اور ڈاکٹر بنانے کے لیے اٹک سے ایبٹ آباد میں رہائش اختیار کرلی تھی۔


