آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم کے پہلے مسلمان کھلاڑی عثمان خواجہ جنھوں نے سڈنی ٹیسٹ کے بعد بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا ان کا کہنا تھا کہ میں پاکستان سے تعلق رکھنے والا مسلمان لڑکا ہوں جسے کہا گیا تھا کہ وہ کبھی بھی آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے لیے نہیں کھیلے گا۔ ‘انہو ں نے نسلی امتیاز برتنے کے الزامات عاید کیے۔
انہوں نے آسٹریلیا کے لیے کھیلنے کو ایک بڑی کامیابی قرار دینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ وہ اب بھی دقیانوسی خیالات‘ سے لڑ رہے ہیں۔
عثمان خواجہ کا خاندان جب صرف پانچ برس کے تھے ان کا خاندان پاکستان سے آسٹریلیا چلا گیا تھا،عثمان خواجہ 1986 کو اسلام آباد میں پیدا ہوئے۔

عثمان خواجہ نے خود پر نسلی امتیاز کی شکایت کی ہو۔ سنہ 2020 میں بھی اُنھوں نے اپنے پاکستانی پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی وجہ سے اُنھیں ’سست‘ کہا گیا۔
سنہ 2023 میں اُن پر غازہ کے عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں بازو پر سیاہ پٹی باندھنے پر بھی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اعتراض کیا تھا۔
انہو ں نے میڈیا سے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ اس کے ساتھ ایک جیسا سلوک کیا جائے۔ نسلی دقیانوسی تصورات نہ ہوں۔‘کرکٹ آسٹریلیا نے تاحال عثمان خواجہ کی اس نیوز کانفرنس پر کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا۔
پرتھ ٹیسٹ سے پہلے کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے عثمان خواجہ نے کہا کہ جس طرح سے میڈیا اور سابق کھلاڑیوں نے مجھ پر حملہ کیا، ’وہ بہت افسوسناک تھا۔‘
یہ بھی پڑھئیے
پی ایس ایل کب سے شروع ہو گا تاریخ کا اعلان ہو گیا – urdureport.com
بنگلہ دیشی کھلاڑی کو ٹیم میں شامل کرنے پر شاہ رُخ خان کو ’غدار‘ کا طعنہ – urdureport.com
جمعرات کو سڈنی کرکٹ سٹیڈیم میں اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے آسٹریلوی بلے باز نے اس معاملے پر ایشز سیریز کے آغاز پر ہونے والے معاملات کا بھی ذکر کیا۔
39 سالہ عثمان خواجہ سڈنی میں اپنا 88 واں اور آخری ٹیسٹ میچ کھیلیں گے۔ 15 برس قبل اُنھوں نے اسی گراونڈ میں انگلینڈ کے خلاف ہی اپنا ٹیسٹ ڈیبو کیا تھا۔
جمعرات کو اپنی اہلیہ اور دونوں بیٹوں کے ہمراہ 50 منٹ طویل جذباتی پریس کانفرنس میں عثمان خواجہ نے اپنے کریئر میں آنے والے اُتار چڑھاؤ کا تفصیل سے ذکر کیا۔

