ایپسٹین فائلز سکینڈل میں ایک اور اہم پیشرفت سامنے آئی ، نئے انکشافات میں عالمی رہنما، شاہی خاندان اور ارب پتی شخصیات سمیت مزید اہم افراد کے نام سامنے آئے ہیں۔
سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق تازہ دستاویزات کے اجراء نے عالمی اشرافیہ میں ہلچل مچا دی ہے۔ نئی فائلز میں عالمی رہنماؤں بارئے چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔
یہ انکشافات ایپسٹین فائلز کی ان تازہ کھیپ میں سامنے آئے، جو 30 لاکھ سے زائد صفحات، تصاویر اور ویڈیوز پر مشتمل ہے۔
ایپسٹن فائلز مین قبل ازیں پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کا نام بھی سامنے آیا تھا ۔
پہلے جاری ای میلز میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پی ٹی آئی کے بانی چیر مین عمران خان کا بھی ذکر ملتا ہے جنہیں خرناک ترین قرار دیا گیا اور پی ٹی کے رہنما اس کو ایک اعزاز سمجھتے ہیں۔
امریکی محکمہ انصاف کی سنگین غلطی، حساس تصاویر جاری
دستاویزات کے اجرا کے دوران امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے غلطی سے تقریباً 40 ایسی تصاویر بھی جاری ہو گئیں جن میں متاثرہ نوجوان خواتین اور کم عمر لڑکیوں کے چہرے اور برہنہ جسم نمایاں تھے۔
ایک مرتبہ یہ تصاویر جاری ہوئیں تو نیا طوفان کھڑا ہو گیا تا ہم عوامی ردِعمل اور نیویارک ٹائمز کی نشاندہی کے بعد یہ تصاویر فوری طور پر ہٹا دی گئیں۔
ایپسٹین فائلز میں ڈونلڈ ٹرمپ کا ذکر
نئی فائلز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام متعدد بار سامنے آیا ہے، تاہم ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تازہ دستاویزات انہیں کسی بھی غلط کام سے بری کرتی ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق یہ ایپسٹین فائلز کی آخری کھیپ ہے، مگر ڈیموکریٹک قانون سازوں نے سوال اٹھایا ہے کہ تحقیقات سے متعلق صرف نصف دستاویزات ہی کیوں جاری کی گئیں، باقی کیوں خفیہ رکھی جا رہی ہیں۔

نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی والدہ کی تصاویر کیوں ؟
نیویارک پوسٹ کے مطابق نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی والدہ، معروف فلم ساز میرا نائر کا ذکر گھسلین میکس ویل کے گھر 2009ء میں ہونے والی ایک پارٹی سے متعلق ای میلز میں آیا ہے۔
تاہم سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی وہ تصاویر جن میں میرا نائر کو ایپسٹین اور بل کلنٹن کے ساتھ دکھایا گیا، بعد ازاں جعلی اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ثابت ہوئیں۔
شہزادہ اینڈریو پر دباؤ، کانگریس میں بیان کا مطالبہ
برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے مطالبہ کیا ہے کہ شہزادہ اینڈریو امریکی کانگریس کے سامنے بیان دیں ان کے خلاف سپ سے پہلے سکینڈل سامنے آیا۔
نئی فائلز میں اینڈریو کی تصاویر شامل ہیں جن میں وہ ایپسٹین کی نیویارک رہائش گاہ میں ایک خاتون کے اوپر جھکے دکھائی دیتے ہیں اور ان پر متعدد الزامات عاید کیے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ اینڈریو سے پہلے ہی شاہی اعزازات واپس لیے جا چکے ہیں۔ دستاویزات میں ان کی سابقہ اہلیہ سارہ فرگوسن اور ایپسٹین کے درمیان قریبی مالی و سماجی تعلقات کا بھی انکشاف ہوا ۔
برطانوی سیاست میں ہلچل، پیٹر مینڈلسن بے نقاب
فائلز کے مطابق برطانیہ کے سابق سینئر وزیر پیٹر مینڈلسن نے بینکرز کے بونس سے متعلق ٹیکس پالیسی پر سرکاری ای میلز
جیفری ایپسٹین کو بھیجیں جس پر وہ تنقید کی زد میں ہیں ۔
، جس پر بعد ازاں انہیں امریکا میں ان کو برطانوی سفیر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
یورپی سیاست بھی متاثر، استعفے اور معذرتیں
سلوواکیہ میں وزیرِ اعظم کے قومی سلامتی کے مشیر میروسلاو لائی چاک نے اس ضمن میں ایپسٹین کے ساتھ لڑکیوں اور سفارت کاری پر گفتگو سامنے آنے کے بعد استعفیٰ دے دیا۔
جبکہ ناروے کے شاہی خاندان کی ولی عہد شہزادی میٹے مارٹ نے تو باقاعدہ معذرت کی اور اعتراف کیا کہ وہ 2013ء میں ایپسٹین کے فلوریڈا کے گھر قیام کر چکی ہیں۔
ایپسٹین اور موس اد سے تعلقات کا دعویٰ
نئی فائلز کے مطابق جیفری ایپسٹین کے سابق وزیرِ اعظم ای ہود باراک اور خفیہ ایجنسی موس اد سے قریبی تعلقات تھے، اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے وہیں سے جاسوسی کی تربیت حاصل کی۔

جیفری ایپسٹین کون تھا؟ پس منظر
جیفری ایپسٹین ایک امریکی کروڑ پتی شخصیت تھا، جس کے دنیا بھر کی سیاسی اور بااثر شخصیات سے تعلقات تھے۔
2005ء میں فلوریڈا میں ایک 14 سالہ لڑکی کو جنسی تعلقات کے لیے جب اس نے پیسے دئیے تو اس وقت اس خلاف پیسے دینے کے الزام میں اس کے خلاف تحقیقات شروع ہوئیں۔
2006ء میں اسے جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار کیا گیا، جبکہ 2008ء میں اس نے جرم قبول کرتے ہوئے 13 ماہ قید کی سزا کاٹی۔
بعد ازاں اس پر انسانی اسمگلنگ کے سنگین الزامات لگے ، 2019ء میں مقدمے کی سماعت سے قبل وہ جیل میں پراسرار طور پر مردہ پایا گیا، جسے سرکاری طور پر خودکشی قرار دیا گیا۔

