پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائز لاہور قلندرز نے پی ایس ایل کے 11ویں ایڈیشن کے لیے بنگلہ دیش کے نامور فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو براہِ راست سائن کر لیا ہے۔
مستفیض الرحمان 6 کروڑ 44 لاکھ روپے سے زائد رقم خرچ کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئیے
یہ وہی مستفیض الرحمان ہیں، جنھیں انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی فرنچائز کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے نو کروڑ 20 لاکھ انڈین روپے میں خریدا تھا۔ اس فرنچائز کے مالک بالی وڈ سٹار شاہ رُخ خان ہیں۔
لیکن بنگلہ دیش مخالف جذبات کی وجہ سے انڈیا میں بعض حلقوں نے حکومت پر دباؤ ڈالا تھا کہ مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل میں کھیلنے کی اجازت نہ دی جائے۔
بعض انتہا پسند تنظیموں نے یہاں تک بھی دھمکی دی تھی کہ مستفیض الرحمان کو ایئر پورٹ سے باہر ہی نہیں آنے دیا جائے گا جبکہ بعض نے شاہ رُخ خان پر ’غداری‘ کے الزامات بھی عائد کیے تھے۔
اسی دباؤ میں آ کر مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے ریلیز کر دیا گیا تھا۔ اس فیصلے نے ایک ایسے تنازع کا جنم دیا تھا، جو اب بھی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔
لاہور قلندرز نے جمعرات کو اپنے آفیشل ایکس (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بنگلہ دیشی بھائی مستفیض، جو 2016 اور 2018 میں قلندرز کا حصہ رہے، اب براہِ راست سائننگ کے تحت واپس خاندان میں شامل ہو گئے ہیں۔ ایک بار قلندرز، ہمیشہ قلندرز۔
مستفیض الرحمان نے رواں سال جنوری کے آغاز میں پی ایس ایل کے لیے رجسٹریشن کروائی تھی، جو انہیں انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی فرنچائز کولکتہ نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) کے اسکواڈ سے ریلیز کیے جانے کے بعد ممکن ہوئی۔
30 سالہ بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر کو دسمبر میں ہونے والی آئی پی ایل منی نیلامی میں کے کے آر نے 9.20 کروڑ بھارتی روپے میں خریدا تھا، اور وہ اس سیزن میں منتخب ہونے والے واحد بنگلہ دیشی کھلاڑی تھے۔
تاہم بعد ازاں بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) کی ہدایات پر انہیں اسکواڈ سے فارغ کردیا گیا۔
یہ بھی پڑھئیے

