ملک میں27ویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں ایک نیا عدالتی سیٹ اپ قائم تو کر دیا گیا ہے جس کو اتنی جلد بازی میں بنایا گیا کہ اس کو بنا نے والے بھی کئی معاملات پر شش و پنج میں مبتلا ہیں،اس وقت سپریم کورٹ آف پاکستان میں ہزاروں ایسے کیسز زیر التوا ہیں جن کو آئینی عدالت میں منتقل کیا گیا ہے اور کچھ کی ابھی بھی چھان بین جاری ہے کیو نکہ یہ سارئے کیسز سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار سے خارج ہو چکے ہیں۔
سپریم کورٹ می اس وقت 56212کیسز زیر التوا ہیں جن میں سول فوجداری آئینی اپیلیں اور دیگر پٹیشنز وغیرہ شامل ہیں لیکن اب چو نکہ نئی ترمیم کے بعد آئینی نو عیت کے معاملات سپریم کورٹ کے دائرہ کار میں نہیں آتے کیونکہ سپریم کورٹ اب دیوانی اور فوجداری کیسز میں ایپیلٹ دائرہ کار استعمال کر ئے گی اور آئینی کیسز آئینی عدالت کو مل جایں گے۔
ان 56000 مقدمات میں سے ذرائع کا۔کہنا ہے کہ 22000 ایسے کیسز ہیں جن کو آئینی عدالت کو ٹرانسفر کیا گیا ہے اور ابھی مزید بھی ٹرانسفر ہو سکتے ہیں۔ جبکہ آئینی عدالت کے ساتھ ججوں کے لیے یہ زیر التوا مقدمات ایک پہاڑ کی صورت میں سامنے کھڑے ہوں گے۔
نئی ترمیم کے بعد عوامی مفاد اور انسانی حقوق کے کیسز سپریم کورٹ کے لیے قصہ پارینہ بن کررہ جایں گے کیو نکہ سپریم کورٹ کے دائرہ کار سے ان کو نکال لیا گیا ہے ۔ماضی میں عدالتیں ان کو حکومتوں اور ظلم و زیادتی کے خلاف استعمال کرتی رہی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں ایک وقت ایک ایسا مکمل سیل کام کر رہا ہے جو کہ کیسز کو ان کی نو عیت کے اعتبار سے الگ الگ کر رہا ہے اور یہ پراسس گزشتہ برس سے ہی جاری ہے،جب کہ سپریم کورٹ اس وقت آئِنی تشریح نہیں کر سکتی تو اکثر کیسز میں آئینی تشریح درکار ہوتی ہے اس لیے توقع سے زیادہ کیسز آئِنی عدالت کو منتقل کیے جا یں گے جن کو سپریم کورٹ میں الگ کر کے رکھ دیا گیا ہے اور ذارئع کا کہنا ہے ان کہ تعداد ہزاروں میں وہ گی۔
سپریم کورٹ کے ایک اہلکار کا دعویٰ ہے کہ ہزاروں مقدمات آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے، انکا فیصلہ کرنا بڑا چیلنج ہوگا۔ سینئر وکلا یہ بھی زور دے رہے ہیں کہ بدانتظامی اور گورننس سے متعلق عوامی مفاد کے مقدمات کے بجائے وہ مقدمات سنے جائیں جن میں قانون اور آئین کی تشریح درکار ہے۔

ملک میں بننے والی نئی آئینی عدالت کے نئے چیف جسٹس امین الدین خان نے ریٹائرڈ ملازمین کی بھرتی کا سلسلہ شروع کیا ہے اور سپریم کورٹ سے تجربہ کار عملہ حاصل کیا جارہا ہے تا کہ آئینی کیسز جن کو وہ پہلے بھی دیکھتے رہے ہیں بہتر انداز میں ان کی چھان بین ہو سکے اور اس کام کے لیے انہوں نے تجربہ کار سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ آفیسر نذر عباس کی خدمات حاصل کی ہیں جو کہ ایڈیشنل رجسٹرار جو ڈیشل کے عہدے پر کام کر چکے ہیں اور آئینی بینچ کے لیے بھی ان کا کام کر نے کا تجربہ ہے ۔لیکن یہ کام جوئے شیر لانے کے مترادف ہو گا۔
نئی قائم شدہ ہونے والی وفاقی آئینی عدالت کو ابھی بھی بڑے قانونی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا ہے، ایک جانب سے تو وکلاء برادری 27ویں آئی ی ترمیم کے خلاف مہم چلا نے جارہی ہے اور دوسری جانب یہ عدالت ابھی ادھر ادھر گھوم رہی ہے اور فل الحال اس کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چند کمرے ملے ہیں اور ابھی اس کی مستقل عمارت نہین شاید اس کے لیے اب اسلام آباد ہائی کورٹ کو ہی دوبارہ جی ٹین منتقل کیا جائے گا۔

یہ واضح نہیں کہ وہ مستقل طور پر کہاں کام کرے گی، فی الحال یہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی عمارت میں کام کر رہی ہے مگر کمرہ عدالت نمبر ایک چیف جسٹس امین الدین کو استعمال کیلیے نہیں دیا جا رہا اور عدالتہ کمرہ نمبر دو میں کام کر رہے ہیں۔
یہ پڑھئیے
27ویں آئینی ترمیم کے بعد جوڈیشل کمیشن کو دوبارہ تشکیل دیا گیا – urdureport.com
اس سے قبل حکومت وفاقی شرعی عدالت کی عمارت میں آئینی عدالت قائم کرنا چاہتی تھی لیکن شرعی عدالت کے ججوں نے ایسا کرنے نہیں دیا اور اپنی عمارت نہیں چھوڑی۔

