آئین میں ستائیسویں ترمیم کے بعد اہم آئینی و قانونی عدالتی اداروں — سپریم جوڈیشل کونسل (SJC)، جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (JCP) اور سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) کمیٹی — کو نئے آئینی ڈھانچے کے مطابق دوبارہ تشکیل دے دیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کے پی آر او کی جانب سے جاری بیان کے مطابق:
“سپریم کورٹ آف پاکستان کے اگلے سینئر ترین جج جسٹس جمال خان مندوخیل کو چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف جسٹس فیڈرل آئینی عدالت پاکستان (FCCP) نے مشترکہ طور پر آرٹیکل 209 کی شق 2 (د) کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کا رکن نامزد کیا ہے۔”
سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل:
SJC میں شامل ہوں گے:
فیڈرل آئینی عدالت (FCCP) اور سپریم کورٹ (SCP) کے چیف جسٹس
FCCP اور SCP کے ایک ایک سینئر ترین جج
FCCP یا SCP کا ایک جج جسے دونوں عدالتوں کے چیف جسٹس دو سال کے لیے نامزد کریں
ہائی کورٹس کے دو سینئر ترین چیف جسٹس
SJC کی سربراہی ان دونوں (CJP اور FCC چیف جسٹس) میں سے زیادہ سینئر جج کرے گا، جس کا تعین ان کی بطور چیف جسٹس تقرری کی تاریخ سے ہوگا۔
اس کا مطلب ہے کہ چیف جسٹس یحییٰ ہی اس فورم کے سربراہ رہیں گے۔
مزید کہا گیا کہ:
“فیڈرل آئینی عدالت کے اگلے سینئر ترین جج جسٹس عامر فاروق کو چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف جسٹس فیڈرل آئینی عدالت نے آرٹیکل 175A کی شق 2 (iiia) کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا رکن نامزد کیا ہے۔”
جوڈیشل کمیشن کی نئی تشکیل:
اب JCP میں شامل ہوں گے:
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی
FCC چیف جسٹس امین الدین خان
سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منیب اختر
FCC کے سینئر ترین جج جسٹس سید حسن اظہر رضوی
FCC کے اگلے سینئر ترین جج جسٹس عامر فاروق
اٹارنی جنرل منصور عثمان آوان
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ
پاکستان بار کونسل کے نمائندہ احسن بھون
قومی اسمبلی کے دو ارکان
سینیٹ کے دو ارکان
قومی اسمبلی اسپیکر کی جانب سے نامزد کردہ ایک خاتون یا غیر مسلم رکن
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ:
“چیف جسٹس آف پاکستان نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر ترین جج جسٹس جمال خان مندوخیل کو سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) ایکٹ 2023 کی دفعہ 2 کے تحت قائم تین رکنی کمیٹی کا رکن نامزد کیا ہے۔”
اس قانون کے تحت کمیٹی میں شامل ہوتے ہیں:
چیف جسٹس آف پاکستان
سپریم کورٹ کے دو سینئر ترین جج
اب، جسٹس منصور علی شاہ کے استعفے کے بعد:
جسٹس منیب اختر
جسٹس جمال خان مندوخیل (اب دوسرے نمبر پر سینئر جج)
کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔
ان اداروں کا کردار:
SJC: ججز کے خلاف شکایات اور احتساب کا سب سے بڑا فورم
پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی: بینچز کی تشکیل اور مقدمات کی فہرست بنانا
JCP: اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری
نئے آئینی نظام کے تحت ان اداروں کی دوبارہ تشکیل ضروری تھی تاکہ وہ ترمیم شدہ آئینی ڈھانچے کے ساتھ ہم آہنگ رہ سکیں۔ یہ ادارے مستقبل میں ججز کے احتساب، تقرری اور عدالتی نظام کی طریقہ کار سازی میں مرکزی کردار ادا کرتے رہیں گے۔


