پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے لیے حکومت ایک مرتبہ پھر کو ششیں کر رہی ہے کیو نکہ اس سے قبل بولی کی پہلی کو شش ناکامی سے دوچار ہو چکی ہے اسی لیے وزیر اعظم کو کہنا پڑا کہ اس بولی کو23دسمبر کو ٹی وی پر براہ راست نشر کیا جائے گا اور پراسس شفاف ہوگا۔
پی آئی کی اس مرتبہ خریداری کے لیے چار کمپنیاں حتمی طور پر سامنے آئی ہیں جبکہ اس مرتبہ نجکاری کمیشن کو پانچ پارٹیوں کی جانب سے دستاویز موصول ہوئی تھیں جن میں سے اب چار اس عمل کا حصہ ہیں۔
واضح رہے کہ گذشتہ برس موجودہ حکومت ہی کے دور میں پی آئی اے کی نجکاری کی پہلی کوشش اس وقت ناکام ہوئی تھی جب قومی ائیر لائن کی خریداری کے لیے صرف ایک کمپنی کی جانب سے صرف دس ارب روپے کی بولی لگائی گئی تھی اور اس پر ہر طرف سے اس کی شفافیت پر سوال اٹھنے لگے ، اب چو نکہ مشیر نجکاری کو تبدیل کر کے محمد علی کو وزیر اعظم کا مشیر برائے نجکاری مقرر کر دیا گیا۔

حکومت کی جانب سے پی آئی اے نجکاری کی دوسری کوشش میں آٹھ کمپنیوں نے پی آئی اے کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی تاہم نجکاری کمیشن کو ڈیڈ لائن ختم ہونے تک پانچ کمپنیوں کی جانب سے ہی سٹیٹمنٹ آف کوالیفکیشن موصول ہوئے تھے اور اب چار اس عمل میں شامل ہیں،ان کمپنیوں میں لکی سیمنٹ، حب پاور، کوہاٹ سیمنٹ اور میٹرو وینچرز پر مشتمل کنسورشیم شامل ہیں۔
علاوہ ازیں عارف حبیب، فاطمہ فرٹیلائزر، سٹی سکول اور لیک سٹی ہولڈنگز پر مشتمل گروپ نے بھی قومی ایئرلائن خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔اسی طرح ایئر بلیو اور فوجی فرٹیلائزر کمپنی نے بھی باضابطہ طور پر اپنی اپنی سٹیٹمنٹ آف کوالیفکیشن جمع کروائی۔
اس کے علاوہ آگمنٹ سیکیورٹیز، سیرین ایئر، بحریہ فاؤنڈیشن، میگا ہولڈنگ اور ایکویٹاس نے بھی پی آئی اے کی خریداری میں مشترکہ طور پر دلچسپی ظاہر کی تھی لیکن اب 23 دسمبر کو ہونے والی نجکاری میں یہ گروپ شامل نہیں۔
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے حوالے سے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا کہنا ہے کہ شفافیت اور میرٹ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس عمل کے لیے بولی 23 دسمبر 2025 کو ملک بھر میں ٹی وی پر براہ راست نشر کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھئیے
پی آئی اے عملے کے فرار کے لیے کینیڈا فیورٹ ملک بن گیا،ایک اور فضائی میزبان غائب – urdureport.com
پی آئی اے کی نجکاری کی پھر تیاریاں مکمل کر لی گئی،خریدار بھی چن لیے – urdureport.com
پی آئی اے کی نجکاری کی پہلی کو شش میں ایک نجی کمپنی کی طرف سے 10 ارب روپے میں اسے خریدنے کی پیشکش کی گئی ہے، حکومت کو محض ایک پارٹی ’بلیو ورلڈ سٹی کنسورشیم‘ کی جانب سے بولی وصول ہوئی ہے۔
ریئل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ کمپنی بلیو ورلڈ سٹی نے 85 ارب روپے کی کم از کم متوقع قیمت (ریفرنس پرائس) کے مقابلے میں صرف 10 ارب روپے کی بولی جمع کرائی، یعنی اس کا تقریباً 12 فیصد حصہ۔
خیال رہے کہ پی آئی اے ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی ہے جس کے سرمائے کا تقریباً 96 فیصد حصہ حکومت کے پاس ہے۔


