اردو رپورٹ ڈیسک
اسلام آباد: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 10 روپے کے کرنسی نوٹ کو مرحلہ وار ختم کرنے کی سفارش کردی ہے۔ یہ بات مرکزی بینک کے ڈپٹی گورنر نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے اجلاس کے دوران بتائی۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں نئے کرنسی نوٹوں کے اجرا اور ڈیزائن سے متعلق معاملات پر بریفنگ دی گئی۔
ڈپٹی گورنر نے بتایا کہ حکومت نے نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن اور ان کے اجرا کے عمل کی نگرانی کے لیے وزیر خزانہ کی سربراہی میں ایک وزارتی کمیٹی قائم کی ہے۔
نئے کرنسی نوٹ ڈیزائن
حکام کے مطابق وزارتی کمیٹی نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن کی منظوری دے چکی ہے، جبکہ اسٹیٹ بینک نئے نوٹوں میں جدید سکیورٹی خصوصیات شامل کرنے کے لیے کام کر رہا ہے تاکہ جعلی کرنسی کی روک تھام کو مزید مؤثر بنایا جاسکے۔
اجلاس کے دوران 5 ہزار اور ایک ہزار روپے کے جعلی نوٹ مبینہ طور پر اے ٹی ایم مشینوں سے نکلنے کی اطلاعات پر بھی ارکان نے تشویش کا اظہار کیا۔
نئے کرنسی نوٹ مین وقت درکار
اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر نے کمیٹی کو بتایا کہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے باوجود نئے کرنسی نوٹوں کے اجرا میں تقریباً ایک سال کا وقت لگ سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ 10 روپے کے نوٹ کو ختم کرنے کی سفارش اسٹیٹ بینک کی جانب سے کی گئی ہے، تاہم نئے کرنسی نوٹوں کی مالیت اور حتمی منظوری کا فیصلہ وفاقی کابینہ کرے گی۔
حکام کے مطابق نئے نوٹوں کے اجرا کا مقصد کرنسی کے معیار اور سکیورٹی کو بہتر بنانا اور جعلی نوٹوں کی روک تھام کے لیے جدید حفاظتی اقدامات متعارف کرانا ہے۔
مذیڈ پڑھئِے
پاکستان میں نئے ڈیزائن والے کرنسی نوٹ جاری ہوں گے – urdureport.com


