اسلام آباد!اہم سفارتی پیش رفت، امریکی مذاکراتی ٹیم نائب صدر جے ڈی وینس JD Vance کی سربراہی میں مذاکرات میں شرکت کے لیے اسلام آباد پہنچے گاجبکہ ایرانی وفد کی قیادت ایران کے موجودہ صدر Masoud Pezeshkian ہیں کریں گے۔
امریکی صدر Donald Trump نے مشرقِ وسطیٰ کی بگڑتی صورتحال کے تناظر میں اپنی اعلیٰ سطحی مذاکراتی ٹیم کو پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ وفد اسلام آباد میں اہم ملاقاتیں کرے گا، جن میں خطے کی سکیورٹی اور جاری کشیدگی پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری Karoline Leavitt نے میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ اس وفد میں امریکی نائب صدر J. D. Vance، صدر کے خصوصی مشیر Steve Witkoff اور صدر کے داماد و سابق مشیر Jared Kushner شامل ہوں گے۔
ان کے مطابق مذاکرات کا آغاز ہفتہ کی صبح متوقع ہے اور امریکہ ان براہِ راست بات چیت کو اہم پیش رفت قرار دے رہا ہے۔
دوسری جانب خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جہاں اس رائی ل کی جانب سے لبنان میں زمینی کارروائی کے آغاز کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت محدود کر دی ہے۔
آبنائے ہرمز پھر بند
ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق ابتدائی طور پر چند جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی، تاہم بعد ازاں اس اہم بحری راستے کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) سے منسلک ذرائع کے مطابق خلیج میں موجود جہازوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ بغیر اجازت آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش نہ کریں، بصورت دیگر سخت کارروائی کی جائے گی۔
عالمی سطح پر یہ پیش رفت توانائی کی سپلائی کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھی جا رہی ہے۔
لبنان میں اس رائیل ی فضائی حملوں نے بھی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ لبنانی حکام کے مطابق ملک بھر میں ہونے والی بمباری کے نتیجے میں کم از کم 89 افراد ہلاک جبکہ 700 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جن میں طبی عملے کے ارکان بھی شامل ہیں۔
اس رائی لی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں حالیہ زمینی آپریشن کے بعد سب سے بڑی فضائی مہم کا حصہ ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ Abbas Araghchi نے امریکہ کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسے جنگ بندی برقرار رکھنے یا اس رائ یل کے ساتھ جاری تنازع میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں پالیسیوں کو بیک وقت نہیں اپنایا جا سکتا اور عالمی برادری اس صورتحال کو بغور دیکھ رہی ہے۔
لبنان پر فریقین کا موقف
اسی دوران اس رائ یلی وزیر اعظم نیتن یاہہو نے عندیہ دیا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو ایران کے خلاف کارروائی دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنان میں ح زب اللہ کے خلاف آپریشن جنگ بندی سے مستثنیٰ ہے اور حملے جاری رہیں گے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بیروت میں حالیہ حملہ اب تک کا سب سے بڑا تھا، جس میں مختصر وقت میں درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
ادھر پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی عارضی جنگ بندی کو ابھی ایک دن بھی مکمل نہیں ہوا تھا کہ نئی پیش رفت نے اس کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
ایرانی قیادت کا موقف
ایرانی قیادت کا مؤقف ہے کہ جنگ بندی کے متفقہ نکات کی خلاف ورزی کی گئی ہے، جس کے باعث صورتحال دوبارہ کشیدہ ہو رہی ہے۔
موجودہ حالات میں اسلام آباد میں ہونے والے ممکنہ مذاکرات کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جہاں عالمی طاقتیں خطے میں بڑھتی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے نئی حکمت عملی ترتیب دے سکتی ہیں


