آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے علاقے گوجرہ میں ایک تعلیمی ادارے کے پرنسپل پر قاتلانہ حملے کا واقعہ پیش آیا ،مظفرآباد کی پولیس کے مطابق گوجرہ کے علاقے میں واقع ایک نجی کالج کے پرنسپل حمزہ برہان جمعرات کی دوپہر ہونے والے ایک قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہونے کے بعد ہلاک ہو گئے ہیں۔
پولیس اور عینی شاہدین کے مطابق واقعہ صبح کے وقت پیش آیا، جب نامعلوم حملہ آور نے پرنسپل پر فائرنگ کی۔ انہیں سر میں تین گولیاں لگیں، جس کے بعد انہیں فوری طور پر سی ایم ایچ مظفرآباد منتقل کیا گیا۔ اسپتال ذرائع کے مطابق متاثرہ شخص کی حالت انتہائی تشویشناک تھی اور وینٹی لیٹر پر ہیں۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ روز زخمی ہونے والے ایمز کالج کے پرنسپل حمزہ برہان سی ایم ایچ میں دوران علاج وفات پا گئے ہیں۔
مظفرآباد کے تھانہ صدر کی پولیس کے مطابق حمزہ برہان شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موت کے منہ میں چلے گئے اور ان کے پسماندگان میں بیوہ اور چھ ماہ کی ایک بچی شامل ہیں۔
مزید پڑھئِے
پنجاب میں نیا غنڈہ ایکٹ :گینگسٹرز اور قبضہ گروپ شکنجے میں – urdureport.com
اسلام آباد قتل کی لرزہ خیز واردات : ایس پی کو سزائے موت کا حکم – urdureport.com
حمزہ برہان کا قاتل
واقعے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مبینہ حملہ آور کو حراست میں لے لیا اور اس سے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے بعد مکمل تفصیلات جاری کی جائیں گی، جن میں ممکنہ محرکات اور کسی تنظیم سے تعلق کے حوالے سے معلومات شامل ہوں گی۔
پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد بھی اکٹھے کیے ہیں اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یاد رہے کہ حمزہ برہان احمد ایمز کالج مظفر آباد میں بطور پرنسپل فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ مقامی طلبا نے اس واقعے کے بعد احتجاج بھی کیا تھا۔
بی بی سی کے مطابق ڈی ایس پی سٹی اشتیاق گیلانی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حمزہ برہان مظفرآباد کے رہائشی ہیں اور انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے نقل مکانی کر کے آئے تھے،حمزہ برہان پر حملے کے بعد ایک مبینہ حملہ آور کو بھی حراست میں لیا گیا ہے، جو پنجاب کے شہر واہ کینٹ کا رہائشی ہے۔انڈیا میں حمزہ برہان واقعہ کے بعد چیخ وپار شروع کر دی گئی ہے۔حمزہ برہان کون تھے اس حوالے سے تحقیقاتی ادارے تفتیش میں مصروف ہیں جبہ انڈین میڈیا میں ایک بار پھر پراپیگنڈہ شروع کر دیا گیا ہے۔


