اسلام آباد کی مقامی عدالت نے اسی لاکھ روپے تنازع میں سینیٹ کے ملازم حمزہ خان قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے پولیس کے سابق ایس پی عارف حسین شاہ کو سزائے موت سنا دی ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں مجرم عارف حسین شاہ پر 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ اس کے علاوہ عدالت نے مقدمے میں نامزد دیگر دو شریک مجرمان صابر شاہ اور ثقلین کو عمر قید کی سزا سنائی ہے اور ان دونوں کو 20 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد جاری کیے گئے فیصلے میں مرکزی ملزم پر 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔ عدالت نے شریک ملزمان کو عمر قید کے ساتھ 20،20 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سابق ایس پی عارف حسین شاہ نے سینیٹ کے ملازم حمزہ خان کو اغوا کرنے کے بعد بے دردی سے قتل کردیا تھا۔ مقتول کی لاش بعد میں مجرم عارف شاہ کے آبائی علاقے مانسہرہ میں واقع گھر سے برآمد ہوئی تھی، جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا گیا۔
استغاثہ کا بیان
استغاثہ کے مطابق مقتول کو ایک مالی تنازع کے حل کے بہانے مانسہرہ بلایا گیا تھا، جہاں انہیں مبینہ طور پر اغوا کرنے کے بعد قتل کر دیا گیا۔ بعد ازاں لاش ایک پہاڑی علاقے سے برآمد ہوئی، جس کے بعد تفتیش کا دائرہ وسیع کیا گیا اور ملزمان تک رسائی حاصل ہوئی۔
مذید پڑھئیے
ثنا یوسف قتل کیس: مجرم کو سزائے موت 21 سال قید – urdureport.com
سمندری قزاقوں نے لاکھوں ڈالر تاون طلب کرلیا عملے کی طبیعت خراب – urdureport.com
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ مقتول کے موبائل فون اسلام آباد میں ایک مقام پر پھینکے گئے تھے تاکہ تفتیش کا رخ تبدیل کیا جا سکے اور یہ تاثر دیا جا سکے کہ وہ دارالحکومت واپس پہنچ چکے ہیں۔ تاہم پولیس نے فرانزک شواہد اور دیگر تفتیشی ذرائع کی مدد سے مقدمے کے اہم نکات تک رسائی حاصل کی۔
سینٹ ملازم کا قتل
یہ واقعہ مارچ 2025 میں پیش آیا تھا، جب سینیٹ کا 30 سالہ ملازم مانسہرہ جانے کے بعد لاپتا ہوگیا تھا۔ اہلِ خانہ کی شکایت پر مقدمہ درج کیا گیا اور تحقیقات کے دوران ملزمان کی گرفتاری عمل میں آئی۔ بعد ازاں ان کی نشاندہی پر مقتول کی لاش برآمد کی گئی۔
پولیس نے طویل تفتیش کے بعد ملزمان کے خلاف چالان عدالت میں پیش کیا تھا۔ عدالت نے دستیاب شواہد اور گواہیوں کی بنیاد پر فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم کو سزائے موت جبکہ دیگر دو ملزمان کو عمر قید کی سزا کا حکم دیا۔
اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ نے اس ہائی پروفائل کیس کی سماعت مکمل ہونے پر یہ حکم جاری کیا۔


