اسلام آباد کی ضلعی عدالت نے سوشل میڈیا انفلوئنسر ثنا یوسف کے قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزم عمر حیات کو قتل کے جرم میں سزائے موت کا حکم دے دیا۔ عدالت نے مقتولہ کے ورثا کو 20 لاکھ روپے بطور زر تلافی ادا کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔
عدالت نے قتل کے علاوہ دیگر الزامات، جن میں ڈکیتی اور متعلقہ دفعات شامل ہیں، کے تحت ملزم کو مجموعی طور پر 21 سال قید بامشقت اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی۔ فیصلہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ نے ملزم کی موجودگی میں سنایا۔
استغاثہ نے کیا مؤقف اختیار کیا؟
سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے کے دوران استغاثہ نے 27 گواہان پیش کیے، جن میں دو اہم عینی شاہدین، یعنی ثنا یوسف کی والدہ اور ان کی پھپھو بھی شامل تھیں۔ پراسیکیوشن کے مطابق دونوں گواہوں نے شناخت پریڈ میں ملزم کی شناخت کی اور بیان دیا کہ شناخت سے قبل انہیں ملزم کی کوئی تصویر یا معلومات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔
استغاثہ نے میڈیکل شواہد کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ مقتولہ کو قریب سے گولیاں ماری گئیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ حملہ جان بوجھ کر قتل کی نیت سے کیا گیا تھا۔
پراسیکیوشن کے مطابق تفتیش کے دوران ملزم کے قبضے سے مقتولہ کا آئی فون بھی برآمد ہوا، جسے کیس کا اہم ثبوت قرار دیا گیا۔ سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ موبائل فون ساتھ لے جانے کا مقصد مبینہ طور پر ایسے شواہد ختم کرنا تھا جو جرم کے محرکات اور ملزم کے رابطوں سے متعلق تھے۔
دفاع کا مؤقف
دوسری جانب ملزم کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ مقدمے کا فیصلہ عوامی دباؤ یا سماجی ردعمل کو مدنظر رکھ کر نہ کیا جائے بلکہ صرف دستیاب شواہد اور قانون کی بنیاد پر کیا جائے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم کو منصفانہ ٹرائل کا حق حاصل ہے اور مقدمے کو غیر ضروری طور پر سماجی یا صنفی مباحث سے جوڑنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔
دفاعی وکیل نے مزید بتایا کہ ملزم کی جانب سے بعض عدالتی اور پراسیکیوشن کارروائیوں پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے درخواستیں دائر کی گئی تھیں، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ زیر التوا درخواستیں ٹرائل کی کارروائی روکنے کا سبب نہیں بن سکتیں۔
قتل کی واردات کیسے پیش آئی؟
پولیس کے مطابق دو جون 2025 کو ثنا یوسف کو ان کے گھر میں فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ مؤقف سامنے آیا کہ ملزم عمر حیات کافی عرصے سے مقتولہ سے رابطے کی کوشش کر رہا تھا اور ملاقات نہ ہونے پر مشتعل ہو گیا تھا۔
مذید پڑھئِے
اداکارہ حنا الطاف نے دورانِ شوٹنگ ہراسانی واقعہ کا انکشاف کر دیا – urdureport.com
اے آئی : اداکارہ گریجا اوک کے چہرے کو چھوٹے کپڑے پہنے خاتون کے دھڑ پر لگا دیا – urdureport.com
تفتیشی حکام کے مطابق ملزم واردات کے روز بھی مقتولہ سے ملنے کی کوشش کرتا رہا اور بعد ازاں ان کے گھر پہنچ کر فائرنگ کی۔ واقعے کے بعد ملزم جائے وقوعہ سے فرار ہو گیا، تاہم پولیس نے دو روز کے اندر اسے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
اہلِ خانہ کا بیان
ثنا یوسف کے والد نے واقعے کے بعد بتایا تھا کہ قتل کے وقت گھر میں کوئی مرد موجود نہیں تھا۔ ان کے مطابق ایک قریبی خاتون رشتہ دار نے پہلے گولی چلنے کی آواز سنی اور بعد میں ایک شخص کو کمرے سے نکلتے دیکھا، جس نے انہیں دھمکانے کی کوشش کی اور پھر موقع سے فرار ہو گیا۔
خاندان کے مطابق جب اہلِ خانہ کمرے میں پہنچے تو ثنا شدید زخمی حالت میں موجود تھیں، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکیں۔
پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ ملزم کی گرفتاری کے بعد آلہ قتل اور مقتولہ کا موبائل فون برآمد کر لیا گیا۔ تفتیشی حکام کے مطابق ملزم نے بعد ازاں مجسٹریٹ کے سامنے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت بیان بھی ریکارڈ کروایا۔
ثنا یوسف کون تھیں؟
ثنا یوسف کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع چترال سے تھا اور وہ اپنے خاندان کے ہمراہ اسلام آباد میں مقیم تھیں۔ وہ سوشل میڈیا پر خاصی مقبول تھیں اور مختلف پلیٹ فارمز پر ان کے ہزاروں فالوورز موجود تھے۔ ان کے قتل کے واقعے نے ملک بھر میں توجہ حاصل کی اور خواتین کے تحفظ سمیت مختلف سماجی پہلوؤں پر بحث کو جنم دیا۔


