مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ڈیپ فیک مواد کے ذریعے ہراسانی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، اور اب بھارتی اداکارہ گریجا اوک بھی اس کا نشانہ بننے والی تازہ ترین شخصیت بن گئی ہیں۔
مراٹھی اور ہندی فلموں کی معروف اداکارہ گریجا اوک Girija Oak نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی تصاویر کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے قابل اعتراض انداز Girija Oak deep fake pictures میں تبدیل کر کے سوشل میڈیا پر پھیلایا گیا، جس کے بعد انہوں نے قانونی راستہ اختیار کیا۔
ممبئی میں ایک انٹرویو کے دوران اداکارہ نے بتایا کہ معاملہ اس وقت سنگین ہو گیا جب انہیں ایک ایسی جعلی تصویر موصول ہوئی جس میں ان کے چہرے کو نامناسب لباس پہنے خاتون کے جسم پر جوڑا گیا تھا، جبکہ تصویر میں موجود مرد کے جسم پر ان کے 12 سالہ بیٹے کا چہرہ لگایا گیا تھا۔
مقدمے کا اندراج
گریجا اوک کے مطابق یہ منظر انتہائی تکلیف دہ تھا اور اسی کے بعد انہوں نے دسمبر 2025 میں ممبئی کے اوشیوارا پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کرائی۔ مقدمہ بھارتی تعزیرات کی مختلف دفعات اور آئی ٹی ایکٹ کے تحت درج کیا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ہٹا دی گئیں۔
اداکارہ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت جیسے جدید ٹولز اگر غلط ہاتھوں میں چلے جائیں تو یہ نہایت خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
گریجا اوک گزشتہ برس ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کے بعد سوشل میڈیا پر غیر معمولی مقبولیت حاصل کر گئی تھیں۔ ان کی گفتگو اور انداز کو بے حد سراہا گیا اور انہیں انٹرنیٹ صارفین کی جانب سے "نیشنل کرش” کا لقب بھی دیا گیا۔ تاہم یہی شہرت بعض عناصر کے لیے ان کی تصاویر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا ذریعہ بن گئی۔
اداکارہ کی تصاویر کا غلط استعمال
اداکارہ کے مطابق ان کی کئی تصاویر کو ڈیجیٹل طور پر تبدیل کیا گیا، کہیں لباس بدلا گیا اور کہیں انہیں جعلی ویڈیوز میں شامل کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا غلط استعمال خاص طور پر خواتین اور بچوں کے خلاف بڑھتا ہوا خطرہ بن چکا ہے۔ بھارت میں 2025 کے دوران خواتین کے خلاف سائبر جرائم کے 76 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین متاثرین کو مشورہ دیتے ہیں کہ ایسے مواد کی صورت میں فوری طور پر اسکرین شاٹس محفوظ کریں، متعلقہ لنکس جمع کریں، پلیٹ فارم پر رپورٹ درج کریں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کریں تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔
ماہرین کے مطابق ڈیپ فیک کے بڑھتے ہوئے رجحان سے نمٹنے کے لیے سخت قوانین، فوری کارروائی اور عوامی آگاہی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔
مزید پڑھئِں


