صومالیہ کے ساحل کے قریب اغوا کیے گئے آئل ٹینکر ’ایم ٹی آنر 25‘ اور اس پر سوار عملے کی رہائی کے لیے بحری قزاقوں نے 30 لاکھ امریکی ڈالر تاوان طلب کر لیا ہے، جبکہ جہاز پر موجود پاکستانیوں سمیت دیگر ملاحوں کی حالت تیزی سے خراب ہونے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔
Ansar Burney Trust نے دعویٰ کیا ہے کہ اُن کا قزاقوں سے براہِ راست رابطہ ہوا ہے اور اغوا کاروں نے ای میل کے ذریعے واضح کیا ہے کہ وہ تین ملین ڈالر سے کم کسی مطالبے پر بات چیت کے لیے تیار نہیں۔ ٹرسٹ کے مطابق قزاقوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا ہے کہ انھوں نے ایک کروڑ ڈالر تاوان مانگا تھا اور کہا ہے کہ ایسی اطلاعات کسی تیسرے فریق نے پھیلائیں۔
یاد رہے کہ 21 اپریل کو صومالیہ کے قریب بحری قزاقوں نے ’ایم ٹی آنر 25‘ نامی آئل ٹینکر پر قبضہ کر لیا تھا۔ جہاز پر 17 افراد پر مشتمل عملہ سوار ہے جن میں 10 پاکستانی، چار انڈونیشین جبکہ انڈیا، سری لنکا اور میانمار سے تعلق رکھنے والے ایک، ایک شہری شامل ہیں۔
مذید پڑھئِں
صومالیہ بحری قزاقوں کے قبضہ میں آئل ٹیکنر پر پاکستانی عملے ارکان شدید مشکل میں – urdureport.com
دنیا میں ایک بار پھر امریکی سائفر کی بازگشت – urdureport.com
جہاز کی آپریٹنگ کمپنی Warf Chartering انڈونیشیا میں رجسٹرڈ ہے جبکہ جہاز کے کپتان کا تعلق بھی انڈونیشیا سے بتایا گیا ہے۔
عملے کو درپیش سنگین مسائل
مغوی پاکستانیوں کے اہلخانہ کے مطابق ابتدا میں عملے کو محدود مقدار میں خوراک فراہم کی جا رہی تھی تاہم وقت گزرنے کے ساتھ صورتحال سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ خاندانوں کا کہنا ہے کہ مسلح قزاق عملے کے ارکان پر تشدد کر رہے ہیں اور مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔
چند مغویوں کو مختصر وقت کے لیے اہلخانہ سے رابطے کی اجازت دی گئی تھی۔ ایک پاکستانی ملاح نے اپنے گھر بھیجے گئے وائس نوٹ میں اہلخانہ سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ اگر وہ واپس نہ آ سکے تو بچوں کا خیال رکھا جائے۔ اس آڈیو پیغام کے بعد خاندان شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔
اہلخانہ کے مطابق جہاز پر ہر مغوی کے ساتھ ایک مسلح قزاق تعینات ہے جبکہ کئی افراد کی ادویات ختم ہو چکی ہیں۔ بعض خاندانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ جہاز کا فیول بھی ختم ہونے کے قریب ہے جس کے باعث کولنگ سسٹم متاثر ہو سکتا ہے اور گرمی میں صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔
انصار برنی کا موقف
Ansar Burney کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں فوری سفارتی مداخلت کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ابھی تک جہاز کی اصل مالک کمپنی واضح طور پر سامنے نہیں آئی، جس کی وجہ سے مذاکرات اور ذمہ داری کے تعین میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
دوسری جانب پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ مغوی عملے کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ Ministry of Maritime Affairs کے مطابق وفاقی وزیر جنید انوار چوہدری نے واقعے کی مکمل رپورٹ طلب کر لی ہے اور متعلقہ اداروں کو پاکستانی عملے کی محفوظ رہائی یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
اس سے قبل سندھ کے گورنر Kamran Tessori نے مغوی پاکستانیوں کے اہلخانہ سے ملاقات کے دوران یقین دہانی کرائی تھی کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام ممکنہ ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں۔
ادھر وزارتِ خارجہ کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی تازہ باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم ذرائع کے مطابق صومالی حکام اور بین الاقوامی اداروں سے رابطے جاری ہیں تاکہ یرغمال بنائے گئے عملے کو بحفاظت بازیاب کرایا جا سکے۔


