پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیرمین عمران خان اور وائس چیرمین شاہ محمود قریشی کو سائفر کو زاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے کیس میں دس دس سال کی سزا سنائی گئی جن کو کالعدم قرار دیا گیا اور معاملہ سپریم کورٹ مین زیرالتوا ہے۔ اب ایک بار پھر اس مبینہ سائفر کی پاکستان کی سیاست میں چار سال کے عرصے کے لیے گونج سنائی دے رہی ہے۔
حالیہ دنوں میں یہ معاملہ اُس وقت دوبارہ زیرِ بحث آیا جب امریکی نیوز ویب سائٹ ڈراپ سائٹ Drop Site نے ایک مبینہ خفیہ دستاویز سائفر شائع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہی وہ اصل سفارتی پیغام تھا جس نے 2022 میں پاکستان کی سیاسی صورتحال کو ہلا کر رکھ دیا۔
تاہم اس دستاویز کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی اور نہ ہی پاکستانی حکومت نے اس بارے میں کوئی باضابطہ مؤقف پیش کیا ہے۔ دوسری جانب تحریکِ انصاف کے رہنما اور حامی اسے بڑے پیمانے پر سوشل میڈیا پر شیئر کر رہے ہیں اور اسے عمران خان کے مؤقف کے حق میں ثبوت قرار دے رہے ہیں۔
پاکستان میں سائفر تنازع
یہ تنازع پہلی مرتبہ مارچ 2022 میں اس وقت سامنے آیا تھا جب عمران خان نے اسلام آباد کے ایک جلسے میں ایک کاغذ لہرا کر دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت کے خلاف بیرونی سازش کی جا رہی ہے۔
بعدازاں انہوں نے الزام لگایا کہ امریکی اہلکار Donald Lu نے واشنگٹن میں تعینات پاکستانی سفیر Asad Majeed Khan کو پیغام دیا تھا کہ اگر عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہو گئی تو امریکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر رکھے گا۔ امریکہ نے ان الزامات کی بارہا تردید کی۔
اپریل 2022 میں عمران خان تحریکِ عدم اعتماد کے نتیجے میں اقتدار سے الگ ہوئے جبکہ بعد میں اُس وقت کے وزیرِ اعظم Shehbaz Sharif نے سائفر کے معاملے کو ’’سیاسی بیانیہ‘‘ اور ’’جھوٹا پراپیگنڈا‘‘ قرار دیا تھا۔
سائفر کیا ہوتا ہے؟
اصل میں سائفر ایک خفیہ سفارتی پیغام ہوتا ہے جو کوڈڈ زبان میں تیار کیا جاتا ہے تاکہ حساس معلومات محفوظ طریقے سے ایک ملک سے دوسرے ملک تک پہنچائی جا سکیں۔ عام خطوط یا ای میلز کے برعکس اس میں خصوصی کوڈز استعمال ہوتے ہیں جنہیں صرف تربیت یافتہ اہلکار ہی سمجھ سکتے ہیں۔ پاکستان کے دفترِ خارجہ میں اس مقصد کے لیے مخصوص افسران تعینات ہوتے ہیں جنہیں ’سائفر اسسٹنٹ‘ کہا جاتا ہے۔
مذید پڑھئِے
ایپسٹین فائلز:ٹرمپ عمران خان سمیت کن کن عالمی رہنماوں کے نام سامنے آئے – urdureport.com
پنکی کا لاھور گھر :رمضان میں راشن تقسیم ،یونیورسٹی سٹوڈنٹس کی آمدورفت – urdureport.com
بیرونِ ملک تعینات سفیر اور سفارتی عملہ اپنے مشاہدات، ملاقاتوں اور سیاسی تجزیوں کو خفیہ انداز میں اسلام آباد بھیجتے ہیں۔ ان پیغامات میں نہ صرف اہم سیاسی معلومات شامل ہوتی ہیں بلکہ مختلف ممالک کے ممکنہ ردِعمل اور پالیسیوں سے متعلق حساس اندازے بھی شامل کیے جاتے ہیں۔ ان پیغامات کی ترسیل خصوصی محفوظ مواصلاتی نظام کے ذریعے کی جاتی ہے ۔
سائفر کن کن کے پاس پہنچتا ہے؟
سابق حکام کے مطابق سائفرز کی نقلیں محدود اہم شخصیات تک پہنچائی جاتی ہیں، جن میں وزیرِ اعظم، صدرِ مملکت، آرمی چیف اور انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان شامل ہو سکتے ہیں۔ سائفر کیس میں دفترِ خارجہ کا مؤقف تھا کہ وزیرِ اعظم آفس کو بھیجی گئی اصل کاپی بعد میں واپس نہیں ملی، جس پر حساس معلومات کے افشا ہونے کے خدشات پیدا ہوئے۔
بعد ازاں ایک انٹرویو میں عمران خان نے اعتراف کیا تھا کہ ان کے پاس موجود سائفر کی کاپی ’’غائب‘‘ ہو گئی تھی، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کی حفاظت کی ذمہ داری وزیرِ اعظم ہاؤس کے عملے پر تھی۔
اسی معاملے پر وفاقی تحقیقاتی ادارے نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے حساس سفارتی دستاویز کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا اور ریاستی سلامتی کو نقصان پہنچایا۔ جنوری 2024 میں خصوصی عدالت نے دونوں رہنماؤں کو دس، دس سال قید کی سزا سنائی، تاہم بعد میں Islamabad High Court نے یہ سزائیں کالعدم قرار دے دیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف اپیل اب بھی زیرِ التوا ہے۔


