صومالیہ کے قریب بحری قزاقوں کے ہاتھوں اغوا ہونے والے آئل ٹینکر کے عملے میں شامل 10 پاکستانی افراد شامل ہیں جن سے گورنر سندح نے ملاقات کر کے یقین دہانی کرائی کہ حکومت انہیں اکیلا نہیں چھوڑے گی۔یاد رہے کہ 21 اپریل کو ’ایم ٹی آنر 25‘ نامی آئل ٹینکر کو صومالیہ کے ساحل کے قریب اغوا کیا گیا تھا، جس پر کل 17 افراد سوار تھے، جن میں 10 پاکستانی شامل ہیں۔
یہ جہاز ایک انڈونیشین کمپنی ’وارف چارٹرنگ‘ کے زیرِ انتظام ہے، جبکہ کپتان اور چند دیگر افراد کا تعلق بھی انڈونیشیا سے ہے۔ اس کے علاوہ عملے میں سری لنکا، میانمار اور بھارت کے شہری بھی شامل ہیں۔
متاثرہ خاندانوں کے مطابق ہر مغوی کے ساتھ ایک مسلح قزاق pirate موجود ہے اور خوراک کی کمی کے باعث صورتحال مزید سنگین ہو رہی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ قزاقوں کے مطالبات ابھی واضح نہیں، تاہم عملے پر دباؤ اور تشدد کی اطلاعات مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔
سرکاری بیان میں کیا کہا گیا ؟
سرکاری بیان کے مطابق مغوی عملے سے رابطہ برقرار ہے اور ان کی محفوظ رہائی کے لیے مختلف سطحوں پر کوششیں جاری ہیں۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ ابتدا میں خوراک کی صورتحال بہتر تھی مگر اب قلت پیدا ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق جہاز پر موجود تقریباً 50 مسلح قزاق عملے کو تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں اور مطالبات پورے نہ ہونے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں اور ان کو خدشہ ہے کہ کہیں بحری قزاق ان کو قتل نہ کر دیں۔
یہ بھی پڑھئِے
پاکستان نے ایران کے لیے تجارتی راہداریاں کھول دیں – urdureport.com
نیویارک میں این پی ٹی اجلاس ,کیا ایران جوہری طاقت کا اہل ہے ؟ – urdureport.com
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارتِ بحری امور نے واقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ پاکستانی عملے کی محفوظ واپسی کے لیے اقدامات تیز کیے جائیں۔
ٹیکنر کہاں سے روانہ ہوا؟
اطلاعات کے مطابق ٹینکر عمان سے روانہ ہوا تھا جب اسے راستے میں قزاقوں نے قبضے میں لے لیا۔ مغویوں کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ ابتدا میں قزاقوں نے موبائل فونز ضبط کر لیے تھے، بعد ازاں محدود وقت کے لیے اہلِ خانہ سے بات کرنے کی اجازت دی گئی۔
ایک مغوی کے اہلِ خانہ کے مطابق انہیں ایک آڈیو پیغام موصول ہوا جس میں ان کے پیارے نے خدشہ ظاہر کیا کہ قزاق انہیں قتل کر سکتے ہیں اور اہلِ خانہ سے دعا اور معافی کی درخواست کی۔ اس کے بعد سے خاندان شدید پریشانی کا شکار ہے۔


