لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں 18 سالہ گھریلو ملازمہ عائشہ کی ہلاکت سے متعلق کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پراسکیوٹر جنرل پنجاب نے مقدمے کو حساس اور اہم نوعیت کا قرار دیتے ہوئے تفتیشی افسر کو تمام متعلقہ ریکارڈ کے ساتھ طلب کر لیا ہے، جبکہ متاثرہ لڑکی کے والد نے بھی اپنے سابقہ مؤقف سے رجوع کر لیا ہے۔
پراسکیوشن حکام کے مطابق کیس کے تمام شواہد، قانونی دفعات اور تفتیشی پہلوؤں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا۔ اس سلسلے میں تفتیشی ٹیم کو مزید تحقیقات کے لیے رہنمائی بھی فراہم کی جائے گی تاکہ مقدمے کے ہر پہلو کو مکمل طور پر جانچا جا سکے۔
لاہور پولیس کا کہنا ہے کہ مبینہ گینگ ریپ کا نشانہ بننے اور اُس کے بعد مبینہ اسقاط حمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والی طبی پیچیدگیوں کے علاج کے دوران ہلاک ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ عائشہ کے کیس میں قتل کی دفعات شامل کر لی گئی ہیں۔
پولیس کے مطابق اس کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے لے کر لاہور انویسٹیگیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے جبکہ اس کیس میں نامزد ایک ملزم کو گرفتار کرکے پہلے ہی جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا جا چکا ہے۔پولیس کے مطابق کیس میں نامزد اُن تمام ملزمان کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا گیا ہے
عائشہ کا مبینہ اسقاط حمل
پولیس کے مطابق عائشہ مبینہ اسقاط حمل کے بعد طبی پیچیدگیوں کا شکار ہو گئی تھی اور دورانِ علاج انتقال کر گئی۔ واقعے کے بعد تھانہ ماڈل ٹاؤن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا اور مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
دریں اثنا، لڑکی کے والد نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہوں نے مالکان کے حق میں دیا گیا سابق بیان دباؤ کے باعث دیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ معاملے کی دوبارہ غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
عائشہ کے بیانات
ادھر عائشہ کا ایک اور ویڈیو بیان منظر عام پر آیا ہے جو مبینہ طور پر اس کی وفات سے قبل ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس بیان میں لڑکی نے الزام عائد کیا کہ اس کے ساتھ زیادتی کا مرتکب ڈرائیور حسن تھا، جبکہ اس نے مالکان کو اس معاملے میں بے قصور قرار دیا۔
ویڈیو بیان کے مطابق عائشہ نے کہا کہ ڈرائیور مبینہ طور پر اسے نشہ آور یا نیند آور ادویات دے کر زیادتی کرتا رہا اور بعد میں اسی شخص نے اسے مالکان پر بھی الزام عائد کرنے کے لیے مجبور کیا۔
مذید خبریں
برطانیہ ! 15 ملزمان کو کمسن لڑکی سے زیادتی کیس میں 188 سال قید – urdureport.com
سارہ چوہدری نے طلاق پر خاموشی توڑ دی،مذہب نے کیسے زندگی بدلی؟ – urdureport.com
پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی نے عدالت میں جمع کرائے گئے اپنے تحریری بیان میں بھی اسی مؤقف کا اظہار کیا تھا۔ تاہم والد کے تازہ بیان اور مختلف دعوؤں کے باعث کیس مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔
تحقیقاتی حکام کے مطابق والد کے بار بار بدلتے بیانات کئی نئے سوالات کو جنم دے رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ عدالت سے اجازت ملنے کی صورت میں مقدمے میں شامل قتل سے متعلق دفعات کے تحت بھی مزید تفتیش کی جائے گی تاکہ واقعے کے تمام حقائق سامنے لائے جا سکیں۔


