پاکستان میں جاری مون سون بارشوں نے مختلف علاقوں میں تباہی مچا دی ہے، جہاں بارشوں سے متعلق حادثات میں جاں بحق افراد کی تعداد 122 ہو گئی ہے جبکہ سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ حکام نے آئندہ چند روز کے دوران مزید شدید بارشوں، دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے اور ممکنہ سیلاب کے خدشے کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے۔
قومی ادارہ برائے قدرتی آفات (این ڈی ایم اے) کے مطابق 26 جون سے اب تک بارشوں سے متعلق مختلف حادثات میں 388 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ 56 اموات خیبرپختونخوا میں ریکارڈ کی گئیں، جبکہ پنجاب میں 46، آزاد کشمیر میں 10، بلوچستان میں 8، سندھ میں 2 اور گلگت بلتستان میں ایک شخص جان کی بازی ہار چکا ہے۔

محکمہ موسمیات کا موقف
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ملک میں مون سون بارشوں کا موجودہ سلسلہ کم از کم 5 اگست تک جاری رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ، لینڈ سلائیڈنگ اور دریاؤں میں طغیانی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
صورتحال سے نمٹنے کے لیے وزیراعظم کی ہدایت پر اسلام آباد میں نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر قائم کیا گیا ہے، جہاں ایمرجنسی رسپانس کمیٹی روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے اور متعلقہ اداروں کے ساتھ امدادی کارروائیوں کی نگرانی کر رہی ہے۔
Flood Hydrological Situation Report | 01 August, 2026, 1200 PST#PMD #FFD #FloodForecastingDivision #FloodUpdate #HydrologicalSituation #RiverFlows #RiverIndus #RiverChenab #RiverRavi #Sidhnai #MediumFlood #TarbelaDam #ManglaDam #PakistanWeather #Monsoon2026 pic.twitter.com/Jg0gA8P3ou
— Pak Met Department محکمہ موسمیات (@pmdgov) August 1, 2026
این ڈی ایم اے کا الرٹ
این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ ملک کے بیشتر دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جبکہ محکمہ موسمیات کے مطابق تربیلا اور منگلا ڈیم میں بھی پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، جہاں حالیہ برسوں میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی مون سون بارشیں اور تباہ کن سیلاب معمول بنتے جا رہے ہیں۔
مذید خبریں
یکم جولائی سے مون سون بارشیں ،سیلاب ، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ – urdureport.com
گزشتہ برس شدید مون سون بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، جبکہ 2022 کے تاریخی سیلاب میں ایک ہزار 700 سے زیادہ افراد ہلاک، 3 کروڑ 30 لاکھ سے زائد متاثر اور ملکی معیشت کو تقریباً 30 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا تھا، جسے پاکستان کی تاریخ کی بدترین قدرتی آفات میں شمار کیا جاتا ہے۔


