اتوار, 27 ستمبر 2026
  • Home  
  • پٹرول :بھارت 10 ، بنگلہ دیش 16جبکہ پاکستان میں 50 فیصد سے زائد اضافہ غریب پس گئے
- وائرل نیوز

پٹرول :بھارت 10 ، بنگلہ دیش 16جبکہ پاکستان میں 50 فیصد سے زائد اضافہ غریب پس گئے

مالیاتی شعبے کے ماہرین کے مطابق ستمبر میں مہنگائی کی شرح 10.25 سے 10.75 فیصد رہنے کا امکان ہے، تاہم خلیجی جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خطرہ برقرار ہے۔

غربت پاكتستان،غریب لوگ پاكستان،شرع غربت پاكستان،غربت رپورٹ

اردو رپورٹ ڈیسک

کراچی: بعض متعلقہ حلقوں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جاری خلیجی جنگ کے باعث غیر یقینی صورتحال کے باوجود ستمبر میں مہنگائی کی شرح میں معمولی کمی متوقع ہے۔

مالیاتی شعبے کے مطابق ستمبر کے باقی دنوں اور اکتوبر کے دوران عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 90 سے 100 ڈالر فی بیرل کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ہفتے کے روز ایران کی تجویز مسترد کیے جانے کے بعد صورتحال ایک بار پھر تبدیل ہوئی ہے۔ ایران کی جانب سے ممکنہ امریکی حملوں کے خدشے کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کے امکانات بھی پیدا ہو گئے ہیں۔

تیل کی قیمت اور پاکستان کی مہنگائی

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر جنگ دوبارہ شروع ہوتی ہے تو خام تیل کی قیمت تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک رہ سکتی ہے، تاہم اس کا انحصار عالمی منڈی میں تیل کی دستیابی پر ہوگا۔

پاکستان اپنی تیل اور گیس کی ضروریات کا تقریباً 70 فیصد درآمد کرتا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر ملکی مہنگائی پر پڑتا ہے۔

اگست میں مہنگائی 11.1 فیصد ریکارڈ

پاکستان میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اگست 2026 میں صارف قیمت اشاریہ کے تحت مہنگائی کی شرح سالانہ بنیاد پر بڑھ کر 11.1 فیصد ہو گئی تھی، جو جولائی 2026 میں 9.2 فیصد تھی۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی رپورٹ کے مطابق ستمبر میں صارف قیمت اشاریہ کی بنیاد پر مہنگائی سالانہ بنیاد پر 10.25 سے 10.75 فیصد رہنے کا امکان ہے، جو اگست کی 11.1 فیصد شرح سے کچھ کم ہوگی تاہم اس میں نمایاں کمی متوقع نہیں۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور ملک میں پیٹرول کی قیمت خطے میں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارت نے پیٹرول کی قیمت میں 10 فیصد، بنگلہ دیش نے تقریباً 16 فیصد جبکہ پاکستان نے 50 فیصد سے زیادہ اضافہ کیا ہے۔

منی مارکیٹ کے ماہر ایس ایس اقبال نے کہا کہ ستمبر کی مہنگائی کی درست شرح کا اندازہ لگانا آسان نہیں کیونکہ عالمی اور مقامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مسلسل تبدیلی آ رہی ہے۔

ان کے مطابق توقع صرف معمولی کمی کی کی جا سکتی ہے، تاہم خدشہ ہے کہ مہنگائی گزشتہ ماہ کی شرح کے قریب بھی رہ سکتی ہے۔

شرح سود اور حقیقی شرح

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی رپورٹ کے مطابق اگر ستمبر 2026 میں مہنگائی 10.25 سے 10.75 فیصد کے درمیان رہتی ہے تو حقیقی شرح سود 75 سے 125 بنیادی پوائنٹس کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔

یہ شرح پاکستان کی تاریخی اوسط 200 سے 300 بنیادی پوائنٹس کے مقابلے میں کم ہوگی۔

بجلی اور خوراک کی قیمتیں بھی دباؤ کا باعث

بجلی، رہائش، خوراک اور تعمیراتی اخراجات میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے یہ امکان موجود ہے کہ ستمبر کی مہنگائی تجزیہ کاروں کی توقعات سے زیادہ رہ سکتی ہے۔

خصوصاً اگر خلیجی جنگ طویل ہوتی ہے تو عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان میں مہنگائی پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔

تیل کی فراہمی میں ممکنہ رکاوٹ کا خدشہ

پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان ممکنہ نئے تنازع سے نمٹنے کے لیے تیاری کر رہے ہیں، جس کے باعث تیل کی قیمتوں اور عالمی رسد سے متعلق غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ گئی ہے۔

تیل کی فراہمی میں کسی بھی رکاوٹ کا پاکستان کی معیشت اور مہنگائی پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے۔

زرمبادلہ کے ذخائر سے کچھ سہارا ملنے کی توقع

پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اس وقت 21.4 ارب ڈالر سے زائد ہیں، جو تیل کی درآمدی لاگت میں اضافے کے مقابلے میں کچھ حد تک سہارا فراہم کر سکتے ہیں۔

تاہم اگر تنازع جاری رہتا ہے اور عالمی سطح پر توانائی کی قیمتیں بلند رہتی ہیں تو زرمبادلہ کے ذخائر مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو مکمل طور پر روکنے کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!