پاکستان کو اس وقت دو بڑے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے ایک طرف تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ہے جو ریاستی وسائل، معیشت، تعلیم، صحت اور روزگار پر مسلسل دباؤ بڑھا رہی ہے، جبکہ دوسری طرف ملک میں گورننس کے مسائل، اختیارات کی غیر مساوی تقسیم اور نئے صوبوں کے قیام پر بحث ایک مرتبہ پھر زور پکڑ چکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا صرف نئے صوبے بنانے سے مسائل حل ہو جائیں گے، یا اصل مسئلہ کہیں اور ہے اور اگر نئے صّبے بنتے ہیں تو کتنے بنیں گے؟
آبادی کا دباؤ اورترقی کی راہ میں رکاوٹ
پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ سالانہ شرحِ اضافہ تقریباً 2.4 فیصد ہے، جو جنوبی ایشیا میں بلند ترین شرحوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس تیز رفتار اضافے نے تعلیم، صحت، پانی، روزگار، رہائش اور بنیادی سہولیات پر غیر معمولی دباؤ ڈال دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں ہر ترقیاتی منصوبہ چند برسوں میں آبادی کے اضافے کی وجہ سے ناکافی ثابت ہونے لگتا ہے۔ ایک نیا ہسپتال، سکول یا سڑک تعمیر ہونے کے بعد جلد ہی مزید سہولیات کی ضرورت پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ آبادی کی رفتار Rate of Population Growth
وسائل کی رفتار سے کہیں زیادہ ہے۔

گورننس کا بحران اور نئے صوبوں کی بحث
حالیہ دنوں میں وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے ملک میں نئے انتظامی یونٹس یا نئے صوبوں کی ضرورت پر زور دینے کے بعد یہ بحث دوبارہ قومی سیاست کا موضوع بن گئی۔
بعد ازاں فوج کے ترجمان کی جانب سے بہتر انتظامی نظام اور اصلاحات کی ضرورت کا ذکر بھی کیا گیا، جس کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں اور حکومتی شخصیات نے اس معاملے پر اپنے اپنے مؤقف پیش کیے۔
بعض وفاقی وزرا نے نئے صوبوں کی حمایت کے بجائے موجودہ نظام میں اصلاحات پر زور دیا، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے اس تجویز پر تحفظات کا اظہار کیا۔
28 ویں آئِنی ترمیم اور نئے صوبے
27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد اب 28ویں آئینی ترمیم سے متعلق سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے۔ مختلف تجزیہ کاروں کے مطابق مجوزہ ترمیم میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، لوکل باڈیز local bodies کو آئینی و مالی تحفظ اور ممکنہ طور پر نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام جیسے معاملات شامل ہو سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی سرکاری مسودہ سامنے نہیں آیا۔
سوشل میڈیا پر 12 نئے صوبے بنانے کے دعوے بھی گردش کر رہے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی۔دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ اور وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے اپنے مختلف بیانات میں یہ عندیہ دیا ہے کہ مجوزہ ترمیم میں آرٹیکل 140، این ایف سی ایوارڈ، لوکل گورنمنٹ، تعلیم، صحت اور آبادی سے متعلق اصلاحات شامل ہو سکتی ہیں۔
حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا اور بعض تجزیوں میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کے تحت اسلام آباد، مغربی پنجاب، جنوبی پنجاب، بہاولپور، پوٹھوہار، کراچی، سندھ، مہران، بلوچستان، گوادر، خیبر اور ہزارہ سمیت پاکستان میں 12 نئے صوبے یا انتظامی یونٹس New Provinces or Administrative Divisions / units in Pakistan قائم کیے جا سکتے ہیں یا اس سے بھی زیادہ انتظامی یونٹس کا قیام عمل مین آسکتا ہے، جبکہ بعض غیر سرکاری فہرستوں میں آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم حکومت نے ان دعوؤں یا کسی مخصوص تعداد میں نئے صوبوں کے قیام کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
سرکاری سطح پر صرف یہ عندیہ دیا گیا ہے کہ مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم The Proposed 28th Amendment to the Constitution
میں آرٹیکل 140، این ایف سی ایوارڈ، لوکل گورنمنٹ، تعلیم، آبادی اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی سے متعلق اصلاحات زیر غور ہیں، جبکہ نئے صوبوں سے متعلق تمام اطلاعات فی الحال قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔

بنگلہ دیش نے کیا مختلف کیا؟
کبھی پاکستان کا حصہ رہنے والا بنگلہ دیش آج کئی سماجی اور معاشی اشاریوں میں پاکستان سے آگے نکل چکا ہے۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آبادی کو وسائل کے مطابق رکھنے سے حکومتیں تعلیم، صحت اور روزگار پر زیادہ مؤثر سرمایہ کاری کر سکتی ہیں، جس کا فائدہ پوری معیشت کو ہوتا ہے۔
بنگلہ دیش نے کئی دہائیوں تک آبادی پر قابو "Bangladesh has successfully managed population growth for decades.”پانے کی پالیسی کو قومی ترجیح بنایا۔ اس کے نتیجے میں وہاں خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت بڑھی، شرح خواندگی میں نمایاں اضافہ ہوا، اوسط عمر زیادہ ہوئی اور برآمدات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا۔
پاکستان میں آبادی پر قابو کیوں نہ پایا جا سکا؟
سابق سرکاری حکام اور آبادی کے ماہرین کے مطابق پاکستان میں اس مسئلے کی سب سے بڑی وجہ مسلسل سیاسی عزم کی کمی رہی ہے۔فیملی پلاننگ family planning پر سرمایہ کاری عالمی معیار سے بہت کم ہے، جبکہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد یہ شعبہ صوبوں کے حوالے ہونے سے کئی برس تک پالیسی سازی اور عمل درآمد میں بھی خلل آیا۔
ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ بعض سماجی رویے، کم عمری کی شادیاں Child Marriages، بیٹے کی خواہش میں مسلسل بچوں کی پیدائش اور خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق مذہبی و سماجی غلط فہمیاں بھی آبادی میں اضافے کی اہم وجوہات ہیں۔
مذید پڑھئِں
اپ مانیں یا نہ مانیں سسٹم تباہ ہو چکا ہے۔وزیر داخلہ محسن نقوی – urdureport.com
وزیر داخلہ کا بیان ان کی زاتی رائے ہے اس پر تبصرہ نہیں کروں گا۔ڈی جی آئی ایس پی آر – urdureport.com
کیا نئے صوبے واقعی مسائل حل کر دیں گے؟
سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ صرف نئے صوبے بنانا گڈ گورننس Good Governance کی ضمانت نہیں۔ان کے مطابق اصل مسئلہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ہے۔ اگر مضبوط بلدیاتی نظام قائم ہو، اضلاع کو مالی اور انتظامی خودمختاری دی جائے اور مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے تو عوامی مسائل زیادہ مؤثر انداز میں حل کیے جا سکتے ہیں۔
کئی ماہرین امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ مضبوط لوکل گورنمنٹ سسٹم اکثر نئے صوبے بنانے سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔
نئے صوبوں کی مخالفت کیوں ہوتی ہے؟
نئے صوبوں کا معاملہ صرف انتظامی نہیں بلکہ سیاسی بھی ہے۔صوبوں کی قومی اسمبلی میں نشستیں، این ایف سی ایوارڈ میں حصہ اور وسائل کی تقسیم بڑی حد تک آبادی سے منسلک ہے، اس لیے اکثر صوبائی حکومتیں اپنی سیاسی اور مالی طاقت کم ہونے کے خدشے کے باعث نئی تقسیم کی مخالفت کرتی ہیں۔
اسی وجہ سے جنوبی پنجاب، بہاولپور، ہزارہ، سرائیکی صوبہ South Punjab, Bahawalpur, Hazara, Saraiki Provinceاور دیگر انتظامی یونٹس کی تجاویز کئی برس سے زیر بحث ہونے کے باوجود عملی شکل اختیار نہیں کر سکیں۔
پشتونخوا اور ہزارہ صوبے کا مطالبہ
پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث کے دوران پشتون قوم کے لیے الگ صوبے کا مطالبہ بھی ایک مرتبہ پھر سیاسی منظرنامے میں واپس آیا ہے۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے اندر اختلافات کے بعد ایک گروپ نے بلوچستان کے پشتون اکثریتی علاقوں، خیبرپختونخوا اور بعض دیگر پشتون اکثریتی علاقوں کو ملا کر "پشتونخوا” کے نام سے نئے صوبے کے قیام کی تجویز پیش کی ہے۔
اگرچہ یہ مطالبہ نیا نہیں بلکہ 1960 کی دہائی سے مختلف ادوار میں سامنے آتا رہا ہے، تاہم موجودہ سیاسی حالات میں اس نے دوبارہ توجہ حاصل کی ہے۔ اسی طرح ہزارہ کے عوام بھی کئی دہائیوں سے اپنے لیے الگ صوبے کا مطالبہ کریں۔
اصل مسئلہ کیا ہے؟
ماہرین اس بات پر تقریباً متفق ہیں کہ پاکستان کے مسائل صرف صوبوں کی تعداد کم ہونے سے پیدا نہیں ہوئے۔
تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، کمزور بلدیاتی نظام، ناقص منصوبہ بندی، محدود وسائل، سیاسی عدم تسلسل، تعلیم اور صحت پر کم سرمایہ کاری، بے روزگاری اور انتظامی کمزوریاں وہ بنیادی عوامل ہیں جنہوں نے گورننس کو متاثر کیا ہے۔
اگر ان بنیادی مسائل پر توجہ نہ دی گئی تو صرف نئے صوبے بنانے سے عوامی زندگی میں خاطر خواہ تبدیلی آنا مشکل ہوگا۔
کیا نئے صوبوں سے مسلہء حل ہو گا؟
پاکستان اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں آبادی، معیشت اور انتظامی ڈھانچے سے متعلق بڑے فیصلوں کی ضرورت ہے۔ ایک طرف آبادی میں تیز رفتار اضافہ ریاستی وسائل کو محدود کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب بہتر گورننس کے لیے نئے صوبوں، انتظامی اصلاحات اور مضبوط بلدیاتی نظام پر بحث جاری ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ نئے صوبے بنیں یا نہ بنیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ریاست ایسے فیصلے کرنے کے لیے تیار ہے جو عوام کو تعلیم، صحت، روزگار، انصاف اور بہتر طرز حکمرانی فراہم کر سکیں۔ یہی فیصلہ پاکستان کے آئندہ کئی عشروں کا رخ متعین کرے گا اور کیا نئے صوبے پاکستان میں غربت بے روز گاری تعلیم صحت جیسے گھمبیر مسائل Poverty, unemployment, education, healthcare, and other pressing challenges. کو حل کرنے میں کامیاب ہو سکیں گے یہ ابھی تک ایک سوالیہ نشان ہی ہے۔


