پاکستان میں چھوٹے دکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے لیے حکومت نے ایک نئی “فکسڈ ٹیکس آسان سکیم” متعارف کرائی ہے جس کے تحت سالانہ 20 کروڑ روپے یا اس سے کم کاروبار کرنے والے تاجروں سے ایک فیصد فکسڈ ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ حکومتی حکام کے مطابق یہ سکیم تاجر تنظیموں کی مشاورت سے تیار کی گئی ہے اور اس کا مقصد ریٹیل سیکٹر کو باقاعدہ ٹیکس نظام کا حصہ بنانا ہے۔
سادہ فارم پر تفصیلات
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی کے مطابق اس سکیم میں شامل تاجروں کو ایک سادہ فارم کے ذریعے اپنی سالانہ فروخت کی تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی، جس پر ایک فیصد کے حساب سے ٹیکس لاگو ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ دکانداروں کے پہلے سے کٹے ہوئے ود ہولڈنگ ٹیکس کو بھی اس نظام میں ایڈجسٹ کیا جا سکے گا، جبکہ کم از کم 25 ہزار روپے کی ادائیگی لازمی ہوگی اگر حساب برابر ہو جائے۔
دوکانوں میں ایف بی آر کی پلیٹ
سکیم کے تحت تاجروں کو ایف بی آر کی جانب سے ایک خصوصی شناختی پلیٹ بھی دی جائے گی جس پر دکان کی تفصیل، نیشنل ٹیکس نمبر اور کیو آر کوڈ شامل ہوگا، جسے انسپکشن کے دوران چیک کیا جا سکے گا۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ سکیم اختیاری ہے، یعنی تاجر چاہیں تو اس میں شامل ہو سکتے ہیں یا پرانے ٹیکس نظام میں رہ سکتے ہیں۔
تاہم جو دکاندار نہ تو اس سکیم کا حصہ بنیں گے اور نہ ہی روایتی ٹیکس نظام میں آئیں گے، ان پر جرمانے عائد کیے جائیں گے جو پہلے ماہ 10 ہزار روپے، دوسرے ماہ 25 ہزار روپے اور تیسرے ماہ 50 ہزار روپے تک بڑھ سکتے ہیں۔
مذید پڑھئِں
بجٹ 2026:رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں بڑی تبدیلیاں ،ٹیکسز میں کمی – urdureport.com
وفاقی بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں تبدیلی ،10 جون نئی تاریخ – urdureport.com
ایف بی آر کے مطابق ملک میں تقریباً 44 لاکھ دکاندار موجود ہیں جن میں سے بڑی تعداد ابھی تک ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔ حکام کو امید ہے کہ اس نئی سکیم کے ذریعے ریٹیل سیکٹر کو منظم کر کے ٹیکس نیٹ کو وسعت دی جا سکے گی، تاہم تاجر تنظیموں اور ماہرین میں اس کے مؤثر ہونے پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔


