سعودی عرب کے مدینہ منورہ ریجن میں آثارِ قدیمہ کی اہم دریافتوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں ہیریٹیج کمیشن نے المہد گورنریٹ میں کیے گئے سروے کے دوسرے مرحلے کی تکمیل کا اعلان کیا ہے۔ اس سروے کے دوران مختلف تاریخی تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے شواہد کو دستاویزی شکل میں محفوظ کیا گیا ہے، جو خطے کی قدیم تاریخ اور ابتدائی اسلامی دور کی جھلک پیش کرتے ہیں۔
مدینہ ریجن کے المہد گورنریٹ میں آثارِ قدیمہ کے سروے کے پہلے اور دوسرے مرحلے کے دوران ایسی غیرمعمولی تاریخی جگہیں دریافت ہوئی ہیں جو قدیم تہذیبوں کی داستانوں کو زندہ کرتی ہیں اور اس سرزمین کی تاریخ کے نئے ابواب آشکار کرتی ہیں۔
غیر ملکی نیوز کے مطابق سروے کے دوران السویرقیہ، المویھیہ اور حاذۃ کے علاقوں میں مجموعی طور پر 1774 آثارِ قدیمہ دریافت اور ریکارڈ کیے گئے۔ ماہرین کے مطابق ان مقامات پر انسانی آبادکاری کے ایسے مضبوط شواہد موجود ہیں جو صدیوں بعد بھی اپنی حالت میں برقرار رہے۔
Every stone in Al-Mahd bears a memory, and every inscription preserves a story from a history that stretches back to the earliest days of the Islamic state.
Today, we unveil the secrets of our past and pass them on to future generations.#SaudiHeritageCommission pic.twitter.com/knAMVaC0nG
— هيئة التراث (@MOCHeritage) June 9, 2026
اسلامی دور کے نوادرات
مزید فیلڈ ورک کے دوران 156 نئے مقامات کی نشاندہی بھی کی گئی، جہاں مختلف ادوار سے تعلق رکھنے والے آثار ملے ہیں۔ ان میں 461 اسلامی دور سے متعلق نوادرات، 34 ثمودی دور کی تحریریں اور 1259 چٹانی نقوش شامل ہیں۔
ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق اس تحقیق میں 11 قدیم پتھری ڈھانچے، تین محلات اور تاریخی عمارتوں کے کھنڈرات بھی دریافت ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ قافلوں کی گزرگاہیں اور قدیم کنوؤں کے آثار بھی سامنے آئے ہیں جو اس خطے کی تجارتی اور سماجی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔
At Al Mahd, we rediscovered the past, documenting the traces left by those who once inhabited this region through enduring signs of their presence that have withstood the passage of time.#SaudiHeritageCommission pic.twitter.com/jKRFTAGMfi
— هيئة التراث (@MOCHeritage) June 9, 2026
اسم گرامی نمایاں
دریافت شدہ چٹانی نقوش پر مبارک اسم گرامی کندہ کیے گئے ہیں، جبکہ ایک اور چٹان پر قدیم عربی شاعری کے نقوش بھی ملے ہیں، جو اس علاقے کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کو مزید اجاگر کرتے ہیں۔
ہیریٹیج کمیشن کا کہنا ہے کہ مملکت بھر میں آثارِ قدیمہ کی تلاش اور تحقیق کا سلسلہ جاری ہے، جس کا مقصد سعودی عرب کی تاریخی وراثت کو محفوظ اور نمایاں کرنا ہے۔ یہ منصوبے سعودی وژن 2030 کے اہداف کے تحت جاری ہیں۔
During the fourth season of the joint Saudi–Chinese mission, the #SaudiHeritageCommission uncovered a market place structure and a mosque at the Al-Serrain archaeological site, along with rare pottery bearing Chinese seals—findings that reflect the depth of the site’s commercial… pic.twitter.com/Z9vPbdyiM3
— هيئة التراث (@MOCHeritage) April 21, 2026
1700 سے زائد نوادرات دریافت
اسی تناظر میں گزشتہ ہفتے میقات الجحفہ کے علاقے سے بھی 1700 سے زائد نوادرات دریافت ہوئے تھے، جن میں مٹی کے برتن، شیشے کے ٹکڑے، پتھر، صدف اور ہاتھ سے بنی دیگر اشیاء شامل تھیں۔
مذید خبریں
کعبہ کی خلا سے لی گئی تصویر وائرل جہاں روشن نقطے کی مانند دکھائی دیتا ہے – urdureport.com
دریافت سے اِس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ مصری حجاج کے سفر کے تاریخی راستے پر واقع اِس قدیم مقام کی بہت اہمیت رہی ہے۔الجحفہ میقات، مکہ کے شمال مغرب میں 187 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور اسے اسلام کے ابتدائی زمانے ہی سے مسلمہ میقات تسلیم کیا جاتا ہے جس کی نسبت پیغمبرِ اسلام کی مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت سے ہے۔


