مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان تازہ فوجی جھڑپوں نے خطے کی صورتحال کو غیر یقینی بنا دیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی فوجی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا، جس کے بعد امریکی افواج نے ایرانی اہداف پر فضائی کارروائیاں کیں۔
امریکی حکام کے مطابق ہیلی کاپٹر عمان کے ساحل کے قریب حادثے کا شکار ہوا تھا جبکہ اس میں سوار دونوں پائلٹس کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ تاہم واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ واقعے میں ایران ملوث تھا اور اسی بنیاد پر جوابی حملوں کا فیصلہ کیا گیا۔
امریکی سینٹ کام کا دعویٰ
سینٹکام کے مطابق امریکی افواج نے تہران کے مقامی وقت کے مطابق آدھی رات کے بعد ایران میں متعدد مقامات کو نشانہ بنایا۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملے مختلف مراحل میں کیے گئے اور ان کے دوران تقریباً 20 اہداف پر کارروائی کی گئی۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ فضائی حملے مختصر وقفوں کے ساتھ کئی لہروں میں کیے گئے تاکہ منتخب اہداف کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا جا سکے۔ تاہم واشنگٹن نے تاحال ان تمام مقامات کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں جنہیں حملوں کا ہدف بنایا گیا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی ایران کے مختلف علاقوں میں دھماکوں اور فضائی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں جسک، بندر عباس، مناب، سرک اور کوہ مبارک کے اطراف کے علاقے شامل ہیں۔
ایران کا ردعمل
امریکی کارروائی کے بعد ایران نے بھی سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ ایرانی حکام کے مطابق خطے میں موجود امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے جبکہ بحرین اور کویت کی جانب میزائل حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ دونوں ممالک نے اپنے فضائی دفاعی نظام فعال کرتے ہوئے ممکنہ خطرات کا مقابلہ کیا۔
پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل استعمال کرتے ہوئے (امریکی فوجی اڈوں کے) چار بڑے اہداف کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے۔ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے پاسداران انقلاب کا حوالہ دے کر کہا ہے کہ ’ان میں F-35 کے ہینگرز اور اردن کے علاقے الازرق میں ایک امریکی فوجی کمانڈ اور کنٹرول مرکز شامل ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ کا موقف
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری کے خلاف ہر قسم کی کارروائی کا بھرپور جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج کسی بھی حملے یا دھمکی کے سامنے جھکنے والی نہیں اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔
یہ تازہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند ماہ قبل دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی اور سفارتی رابطوں کے بعد امن کی امید پیدا ہوئی تھی۔ امریکی صدر نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ ایک وسیع امن معاہدے کے قریب پہنچ رہا ہے، تاہم نئی فوجی کارروائیوں نے ان امکانات کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
مذید خبریں
ایران اور اسرا*ئیل فوری ایک دوسرے کے خلاف حملے روک دیں،صدر ٹرمپ – urdureport.com
آزاد کشمیر میں جھڑپیں،صورتحال کشیدہ ،چار اہلکار شہید – urdureport.com
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف خطے میں امن کوششیں متاثر ہوں گی بلکہ عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بھی خطرات سے دوچار ہو سکتی ہے۔
اردن کا دعویٰ
اردن کی مسلح افواج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم نے ایران کی طرف سے الازرق کی طرف داغے گئے پانچ میزائلوں کو روک کر مار گرایا ہے۔
ایران کی جانب سے حملوں کے بعد اب کویت سے خبر سامنے آئی ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں کو روک لیا ہے۔


