آزاد کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں عوامی ایکشن کمیٹی کے ایک کارکن کی ہلاکت کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی، جہاں مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں چار پولیس اہلکار جان کی بازی ہار گئے جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں اور مطاہرین کی ہلاکتوں کی بھی اطلاعات ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق چار پولیس اہلکار شہید ہوئے جن میں ایک سب انسپکٹر بھی شامل ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جھڑپوں کے دوران 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جبکہ متعدد پولیس اہلکار گولی لگنے سے متاثر ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
کارکن شاہ زیب کی لاش پر احتجاج
انتظامیہ کے مطابق مظاہرین نے عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکن شاہ زیب کی لاش ہسپتال کے باہر رکھ کر احتجاج جاری رکھا ہوا ہے۔ احتجاج کرنے والوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت کی جانب سے عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ واپس لیا جائے، جس کے بعد ہی تدفین کی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ راولاکوٹ میں حالات کشیدہ رہنے کے باوجود فی الحال مظاہرین اور پولیس کے درمیان براہ راست تصادم رک چکا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق متعدد شہری آنسو گیس کی شیلنگ اور ہنگامہ آرائی کے دوران زخمی ہوئے۔
آزاد کشمیر میں سییکیورٹی سخت
دوسری جانب حکومت نے نو جون کو متوقع احتجاجی مظاہروں اور لانگ مارچ کے پیش نظر دارالحکومت مظفرآباد سمیت مختلف علاقوں میں سکیورٹی سخت کر دی ہے۔ مظفرآباد میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے جبکہ انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی ہے۔ اہم مقامات پر پولیس اور نیم فوجی دستوں کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔
مذید پڑھئیے
سپریم کورٹ: مہاجرین کی مخصوص نشستوں سے متعلق آئینی ترمیم ضروری قرار – urdureport.com
آزاد کشمیر :پیرا ملٹری فورس تعینات، 72 افراد حراست میں، انٹرنیٹ سروسز معطل – urdureport.com
یہ صورتحال اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گئی جب آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ نے پاکستان میں مقیم مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں کے معاملے پر اپنی قانونی رائے جاری کی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ان نشستوں کے خاتمے یا ان میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے لیے آئینی ترمیم ضروری ہے، اور ایسا فیصلہ آئندہ منتخب ہونے والی قانون ساز اسمبلی ہی کر سکتی ہے۔
12 مہاجرین نشستوں کا پھڈا
واضح رہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی طویل عرصے سے قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کی 12 مخصوص نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہے اور اسی مطالبے کے حق میں نو جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ حکومت کی جانب سے کمیٹی کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد مختلف شہروں میں کارروائیاں بھی کی گئیں جن کے دوران متعدد کارکنوں کو حراست میں لیا گیا۔
ادھر انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مظفرآباد میں مجموعی طور پر امن و امان کی صورتحال قابو میں ہے، اگرچہ بیشتر تجارتی مراکز بند ہیں، تاہم روزمرہ ضروریات کی دکانیں اور کھانے پینے کے مراکز معمول کے مطابق کھلے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب آئندہ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 27 جولائی کو منعقد ہوں گے، جن کے لیے الیکشن شیڈول پہلے ہی جاری کیا جا چکا ہے۔


