اپ ڈیٹ سٹوری
گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے، اور اس وقت تک پاکستان پیپلز پارٹی نے سب سے زیادہ 9 نشستیں جیت لیں اور گلگت بلتستان کے الیکشن میں سرفہرست ہے جبکہ دوسرے نمبر پر پی ٹی آئی کے حمایت یافتی آزاد امیدوار ہیں،مسلم لیگ ں کوئی خاص کاردگی نہیں دکھا سکی۔
اب تک کے نتائج کے مطابق 24 میں سے 17 نشستوں کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج آگئے ہیں، جس میں ایک سیٹ پر مسلم لیگ ن، ایک پر مجلس وحدت مسلمین اور 6 پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔
گزشتہ سے پیوستہ
گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور مختلف حلقوں سے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج موصول ہونا شروع ہوگئے ہیں۔
ابتدائی نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کئی حلقوں میں نمایاں برتری حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے جبکہ مسلم لیگ (ن)، مجلس وحدت المسلمین اور آزاد امیدواروں نے بھی اہم نشستیں اپنے نام کی ہیں۔
اب تک موصول ہونے والے مکمل نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے پانچ نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) دو حلقوں میں فاتح قرار پائی ہے۔ ایک نشست مجلس وحدت المسلمین کے حصے میں آئی جبکہ تین حلقوں میں آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔
حلقوں کے نتائج
نگر، شگر، کھرمنگ اور سکردو کے بعض حلقوں میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں نے نمایاں کامیابیاں سمیٹیں۔ دوسری جانب گانچھے اور گلگت کے چند حلقوں میں مسلم لیگ (ن) نے اپنی پوزیشن مضبوط رکھی۔ کچھ علاقوں میں آزاد امیدواروں نے روایتی سیاسی جماعتوں کو سخت مقابلے کے بعد شکست دی۔
کئی حلقوں میں نتائج مکمل ہوچکے ہیں جبکہ بعض نشستوں پر ووٹوں کی گنتی کا عمل تاحال جاری ہے۔ گلگت، ہنزہ، استور، دیامر اور غذر کے متعدد حلقوں میں امیدواروں کے درمیان کانٹے دار مقابلہ دیکھنے میں آیا جہاں معمولی ووٹوں کا فرق فیصلہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔
ووٹر کا جوش و خروش
الیکشن کے دوران ووٹرز نے بھرپور جوش و خروش کا مظاہرہ کیا اور صبح سے شام تک پولنگ اسٹیشنز پر رش دیکھنے میں آیا۔ خواتین، بزرگ شہریوں اور خصوصی افراد نے بھی انتخابی عمل میں بھرپور حصہ لیا۔
الیکشن کمیشن کے مطابق 24 جنرل نشستوں کے لیے مجموعی طور پر 403 امیدوار میدان میں اترے جن میں آٹھ خواتین امیدوار بھی شامل تھیں۔ صوبے بھر میں نو لاکھ 63 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز کو حق رائے دہی استعمال کرنے کا موقع ملا۔انتخابی عمل کے لیے 1391 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے جن میں سے 349 کو حساس اور 551 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا۔
سکیورٹی کے سخت انتظامات کے باعث مجموعی طور پر پولنگ کا عمل پرامن رہا۔نتائج کے مکمل ہونے کے بعد نئی قانون ساز اسمبلی کی تشکیل اور آئندہ حکومت سازی کے حوالے سے سیاسی سرگرمیوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔


