پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سپریم کورٹ نے قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین مقیم پاکستان کے لیے مختص 12 نشستوں کے معاملے پر صدارتی ریفرنس کی سماعت کے بعد اپنی آئینی رائے جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اس پر فیصلہ آنے والی اسمبلی ہی کر سکتی ہے
چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے قرار دیا کہ ان نشستوں کے خاتمے، ردوبدل یا کسی بھی قسم کی تبدیلی کے لیے آئین کے سیکشن 33 میں ترمیم ناگزیر ہے۔ عدالت کے مطابق ایسی ترمیم کا اختیار صرف عوامی مینڈیٹ سے وجود میں آنے والی قانون ساز اسمبلی کو حاصل ہے، اس لیے اس بارے میں فیصلہ آئندہ منتخب ایوان ہی کرے گا۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ صدارتی ریفرنس پر سماعت کی۔
معاملہ کیوں سامنے آیا؟
یہ معاملہ مہاجرین کے لیے مخصوص نشستوں کی آئینی حیثیت سے متعلق جاری اختلافات کے باعث سامنے آیا تھا۔ حکومت ان نشستوں کو برقرار رکھنے کی حامی ہے، جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی ان کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اسی تناظر میں حکومت نے سپریم کورٹ سے آئینی رہنمائی طلب کی تھی۔
عدالت نے اپنی رائے میں واضح کیا کہ انتخابات کا انعقاد حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے اور سیاسی تنازعات یا اختلافات انتخابی عمل میں تاخیر یا رکاوٹ کا جواز نہیں بن سکتے۔
سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ آئینی ترامیم اور بنیادی سیاسی فیصلے منتخب نمائندوں کے فورم پر ہونے چاہییں، نہ کہ سڑکوں پر احتجاجی سرگرمیوں کے ذریعے۔ عدالت کے مطابق جمہوری نظام میں تبدیلی کا راستہ عوامی رائے، ووٹ اور منتخب اسمبلی سے ہو کر گزرتا ہے۔
مذید خبریں
آزاد کشمیر :پیرا ملٹری فورس تعینات، 72 افراد حراست میں، انٹرنیٹ سروسز معطل – urdureport.com
آزاد کشمیر کی 12 مہاجر نشستوں پر تنازع ، پورے کشمیر احتجاج میں – urdureport.com
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ اگرچہ احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے، تاہم اس حق کا استعمال اس انداز میں نہیں ہونا چاہیے جس سے عوام کی روزمرہ زندگی متاثر ہو، سڑکیں بند ہوں یا شہریوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ پیدا ہو۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں عام انتخابات 27 جولائی کو منعقد ہوں گے، جن کے لیے الیکشن کمیشن پہلے ہی انتخابی شیڈول جاری کر چکا ہے۔


