اسلام آباد: وفاقی حکومت نے جمعرات کو مونال ریسٹورنٹ کو مسمار کرنے سے متعلق وفاقی ایئنی عدالت میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی حمایت کر دی، تاہم وفاقی آئینی عدالت نے ریسٹورنٹ کو فوری طور پر دوبارہ کھولنے کی درخواست مسترد کر دی۔
کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے دائر درخواست پر وفاقی آئینی عدالت کے تین رکنی بینچ نے سماعت کی، جس کی سربراہی جسٹس حسن اظہر رضوی کر رہے تھے۔ سماعت کے دوران عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق مختلف سوالات اٹھائے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ فیصلے کے مطابق ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے جانوروں کے حقوق تو موجود ہیں لیکن انسانوں کے نہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ مونال کے لیز کی تجدید سے متعلق ایک مقدمہ سول کورٹ میں زیرِ سماعت تھا جبکہ بعض ریسٹورنٹس کی جانب سے دائر انٹرا کورٹ اپیلیں بھی ہائی کورٹ میں زیرِ التوا تھیں۔
مونال ریسٹورنٹ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ نے تمام زیرِ التوا مقدمات کو ایک ہی فیصلے کے ذریعے نمٹانے کی ہدایت دی تھی۔ اس پر جسٹس رضوی نے سوال کیا کہ تمام متعلقہ فریقین کو سنے جانے کے معاملے کو سپریم کورٹ کے سامنے کیوں نہیں اٹھایا گیا اور وکلا اس مرحلے پر خاموش کیوں رہے۔
سماعت کے دوران جسٹس رضوی نے کہا کہ وکیل کا کام قانونی نکات اٹھانا ہوتا ہے، محض رسمی طور پر عدالت کے سامنے کھڑے ہونا نہیں۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ 2024 میں وائلڈ لائف بورڈ سے متعلق نیا قانون نافذ ہو چکا ہے اور تمام فریق اس بات پر متفق ہیں کہ سول کورٹ میں زیرِ سماعت مقدمے کو آگے بڑھنے دیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وکلا کے درمیان اس بات پر اتفاق رائے موجود ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جانا چاہیے۔
تاہم جسٹس رضوی نے ریمارکس دیے کہ عدالتیں وکلا کے باہمی اتفاق رائے کی بنیاد پر فیصلے نہیں کرتیں اور اس نوعیت کے عدالتی فیصلے صرف اتفاق سے ختم نہیں کیے جا سکتے۔
بینچ نے قرار دیا کہ عدالتی حکم واپس لینے یا اس میں تبدیلی کے لیے تفصیلی فیصلہ درکار ہوگا۔ جسٹس رضوی نے کہا کہ عدالت تمام فریقین کو سنے بغیر کوئی فیصلہ مسلط نہیں کرنا چاہتی اور سوال کیا کہ کیا درخواست گزار چاہتے ہیں کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو سنے بغیر فیصلہ کر دیا جائے؟
دلائل مکمل ہونے کے بعد وفاقی آئینی عدالت نے کیس کی مزید سماعت جولائی کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دی۔قبل ازیں سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مونال ریسٹورنٹ کو بند کرنے کا حکم دیا تھا۔


