سپریم کورٹ آف پاکستان (Supreme Court of Pakistan) نے کراچی کے بلدیہ ٹاؤن (Baldia Town) فیکٹری آتشزدگی کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے سزائے موت پانے والے مرکزی ملزمان عبدالرحمان عرف بھولا (Abdul Rehman alias Bhola) اور محمد زبیر عرف چریا (Muhammad Zubair alias Chariya) کی اپیلیں منظور کر لیں۔ عدالت نے دونوں کی سزائیں کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں کیس سے بری کر دیا۔
یہ فیصلہ جسٹس شہزاد ملک (Justice Shehzad Malik) کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سنایا۔ عدالت نے متحدہ قومی موومنٹ (Muttahida Qaumi Movement – MQM) کی جانب سے فیصلے کے ریمارکس حذف کرنے کی درخواست کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے نمٹا دیا اور قرار دیا کہ جب اصل فیصلہ ہی ختم ہو گیا ہے تو ریمارکس بھی خود بخود غیر مؤثر ہو جاتے ہیں۔
مقدمے کا پس منظر
واضح رہے کہ یہ واقعہ 11 ستمبر 2012 کو کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں حب ریور روڈ (Hub River Road) کے قریب واقع ڈینم فیکٹری میں پیش آیا تھا۔ اس ہولناک آتشزدگی میں 260 مزدور جاں بحق جبکہ 50 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ یہ سانحہ پاکستان کی صنعتی تاریخ کے بدترین حادثات میں شمار کیا جاتا ہے۔
ابتدائی طور پر فیکٹری مالکان پر غفلت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم بعد میں کیس نے سیاسی اور دہشت گردی کا رخ اختیار کر لیا۔ 2020 میں انسداد دہشت گردی عدالت (Anti-Terrorism Court – ATC) نے فیصلہ سناتے ہوئے عبدالرحمان عرف بھولا (Abdul Rehman alias Bhola) اور محمد زبیر عرف چریا (Muhammad Zubair alias Chariya) کو سزائے موت جبکہ چار دیگر افراد کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ (Sindh High Court) نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا تھا، تاہم سپریم کورٹ نے اب ان سزاؤں کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔
عدالت میں مؤقف اور دلائل
سماعت کے دوران ایم کیو ایم (MQM) کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم (Barrister Farogh Naseem) نے مؤقف اختیار کیا کہ ابتدائی ایف آئی آر فیکٹری مالکان کے خلاف درج ہوئی تھی اور بعد میں اسے غلط طور پر دہشت گردی کے پہلو سے جوڑا گیا۔
ان کے مطابق فیکٹری میں حفاظتی انتظامات کی شدید کمی تھی اور مزدور اندر پھنس کر ہلاک ہوئے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ الزام لگانے والوں نے واقعے کے کئی سال بعد نئے بیانات دیے، جن کی بنیاد پر کیس کا رخ تبدیل کیا گیا۔
متاثرہ خاندانوں اور وکلاء کا ردعمل
متاثرہ خاندانوں کے وکیل فیصل صدیقی (Faisal Siddiqi) نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیس شروع سے ہی غلط سمت میں چلایا گیا تھا اور اصل ذمہ داری فیکٹری انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت تھی۔
مذید خبریں
12 سال تک زنجیروں میں قید رکھی گئی خاتون بازیاب، والد اور بھائی گرفتار – urdureport.com
ایشال فاطمہ کیسے اغوا ہوئی ،جانئیے مکمل تفصیل – urdureport.com
تاہم متاثرہ خاندانوں کی نمائندہ سعیدہ بی بی (Saeeda Bibi) نے کہا کہ یہ فیصلہ ان کے لیے مایوسی کا باعث ہے، کیونکہ ان کے مطابق سانحے میں درجنوں خاندان برباد ہوئے اور اصل ذمہ داروں کا تعین مکمل طور پر نہیں ہو سکا۔
واقعے کی اہمیت
بلدیہ ٹاؤن فیکٹری آتشزدگی (Baldia Town Factory Fire) پاکستان کی صنعتی تاریخ کا ایک بڑا سانحہ تھا جس نے ملک بھر میں فیکٹریوں کے حفاظتی نظام، مزدوروں کے حقوق اور صنعتی نگرانی کے نظام پر سنگین سوالات اٹھائے تھے۔
یہ کیس گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے تک عدالتوں میں زیر سماعت رہا اور مختلف مراحل میں اس نے سیاسی، قانونی اور سیکیورٹی اداروں کی تحقیقات کو بھی متاثر کیا۔
موجودہ صورتحال
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مرکزی ملزمان کو کیس سے بری کر دیا گیا ہے، جبکہ عدالت نے قرار دیا ہے کہ بعض سابقہ عدالتی ریمارکس بھی اب غیر مؤثر ہو چکے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد یہ کیس ایک بار پھر قانونی اور سیاسی حلقوں میں بحث کا مرکز بن گیا ہے۔


