آزاد کشمیر (Kashmir) میں جاری احتجاجی تحریک کے دوران مختلف مقامات پر ہونے والی جھڑپوں میں چار سیکیورٹی اہلکاروں سمیت کم از کم 15 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب کالعدم قرار دی گئی جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (Jammu & Kashmir Joint Awami Action Committee) کا لانگ مارچ اس وقت راولاکوٹ (Rawalakot) کے قریب موجود ہے جس میں ہزاروں افراد شریک ہیں۔
خطے کے مختلف اضلاع میں احتجاجی کال کے باعث مکمل شٹر ڈاؤن ہے جبکہ کاروباری مراکز، بینک، پیٹرول پمپس اور پبلک ٹرانسپورٹ بند ہیں۔ صرف سرکاری دفاتر کھلے ہیں تاہم وہاں بھی حاضری انتہائی کم رپورٹ کی جا رہی ہے۔
ڈسٹرکٹ پونچھ (District Poonch) کے کمشنر سردار وحید خان (Sardar Waheed Khan) نےغیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ لانگ مارچ کے شرکاء راولاکوٹ سے مظفرآباد (Muzaffarabad) کی طرف پیش قدمی کرنا چاہتے ہیں تاہم سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انہیں راستے میں روک رکھا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے رینجرز (Rangers) اور فرنٹیئر کانسٹیبلری (Frontier Constabulary – FC) کے اہلکار علاقے میں گشت کر رہے ہیں، جبکہ شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
رہنماوں کے خلاف مقدمات
حکام کے مطابق حکومت نے حال ہی میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (Joint Awami Action Committee) کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس کے رہنماؤں کے خلاف بغاوت کے مقدمات درج کیے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تنظیم کے مطلوب رہنماؤں کی گرفتاری یا اطلاع دینے والوں کے لیے ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
مقامی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ لانگ مارچ کے شرکاء کو مظفرآباد کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکام کے مطابق صورتحال پر قابو پانے کے لیے سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے فضائی نگرانی بھی جاری ہے۔
احتجاجی تحریک کی قیادت کرنے والی تنظیم کا مطالبہ ہے کہ کشمیر اسمبلی میں موجود "مہاجرین مقیم پاکستان” کے 12 مخصوص نشستیں ختم کی جائیں، جن کے بارے میں ان کا مؤقف ہے کہ یہ سیاسی عدم استحکام کا باعث بنتی ہیں۔
حکومت کا موقف
دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ یہ نشستیں آئینی ترمیم کے بغیر ختم نہیں کی جا سکتیں اور اس کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہے، جو موجودہ اسمبلی میں ممکن نہیں۔
مذید خبریں
لانگ مارچ کے شرکا راولاکوٹ ڈھریک عید گاہ میں: دس سے بارہ ہزار موجود ،حکام – urdureport.com
آزاد کشمیر احتجاج جاری : کالعدم ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کے خلاف بغاوت کا مقدمہ – urdureport.com
گزشتہ دنوں مختلف علاقوں میں ہونے والی جھڑپوں میں بھی درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے، جن میں سیکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے۔ پولیس اور مظاہرین دونوں ایک دوسرے پر فائرنگ اور تشدد کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔
ادھر انتظامیہ نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ دفعہ 144 (Section 144) کی پابندی کریں اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں، جبکہ بعض علاقوں میں مساجد سے بھی اعلانات کے ذریعے لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال قابو میں لانے کے لیے کوششیں جاری ہیں، جبکہ مذاکرات کا امکان اسی صورت میں ہے جب لانگ مارچ کو ختم کیا جائے اور شرکاء گھروں کو واپس جائیں۔


