پنجاب کے ضلع جھنگ میں 17 سالہ طالبہ ایشال فاطمہ کی پراسرار موت کے معاملے میں پولیس نے تین مشتبہ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ واقعے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔
ایشال فاطمہ کی دوست کے گھر آمد
پولیس کے مطابق ایشال فاطمہ چار جون کو گھر سے بازار جانے کا کہہ کر نکلی تھیں تاہم وہ واپس نہ آئیں۔ اہل خانہ نے ابتدائی طور پر یہ سمجھا کہ وہ اپنی ایک سہیلی کے گھر موجود ہیں، کیونکہ ماضی میں بھی وہ وہاں قیام کر چکی تھیں۔ بعد ازاں جب رابطہ منقطع ہوا تو خاندان کو تشویش لاحق ہوئی اور وہ اپنی سطح پر تلاش میں مصروف ہو گیا۔
سات جون کی صبح صورتحال اس وقت سنگین رخ اختیار کر گئی جب ایشال کی والدہ کو ایک نامعلوم کال موصول ہوئی۔ کال کرنے والے نے بتایا کہ ان کی بیٹی کی حالت تشویشناک ہے اور وہ شہر کے ایک نجی ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ اہل خانہ فوری طور پر وہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ لڑکی کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ہسپتال کیسے پہنچی؟
ہسپتال ذرائع کے مطابق ایشال کو انتہائی نازک حالت میں طبی امداد دی جا رہی تھی، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکیں اور کچھ دیر بعد دم توڑ گئیں۔ واقعے کی اطلاع پہلے ہی پولیس کو دی جا چکی تھی کیونکہ نجی ہسپتال انتظامیہ نے ایک نامعلوم لڑکی کو نیم بے ہوشی کی حالت میں چھوڑ کر جانے والے افراد کے بارے میں پولیس کو آگاہ کیا تھا۔
جھنگ ہائی فروفائل ایشال فاطمہ کیس
جس کو ملزمان اغوا کے بعد تین دن تک مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بناتے رۃے اور حالت غیر ہونے پر ہسپتال چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ pic.twitter.com/RTHSL4ckLy— Urdu Report (@UrduReportpk) June 9, 2026
پولیس نے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کرتے ہوئے اغوا اور زہریلی یا نشہ آور چیز دینے سے متعلق دفعات شامل کیں، جبکہ طالبہ کی وفات کے بعد مقدمے میں قتل سمیت دیگر سنگین دفعات کا بھی اضافہ کر دیا گیا۔
تحقیقات کے دوران پولیس نے نجی ہسپتال اور اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کی۔ تفتیشی حکام کے مطابق ویڈیوز میں چند نوجوان ایک گاڑی کے ذریعے لڑکی کو ہسپتال لاتے اور ویل چیئر پر اندر منتقل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ انہی شواہد کی بنیاد پر ملزمان کی شناخت ممکن ہوئی اور تین افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ زیر استعمال گاڑی بھی تحویل میں لے لی گئی ہے جبکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ابتدائی تحقیقات سے عندیہ ملا ہے کہ واردات ممکنہ طور پر منصوبہ بندی کے تحت کی گئی۔
ابتدائی تحقیقات رپورٹ
دوسری جانب ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی ابتدائی طبی رپورٹ میں کسی حتمی وجہ موت کا تعین نہیں کیا گیا۔ تاہم پولیس حکام کے مطابق ابتدائی شواہد زہریلی یا نشہ آور شے کے استعمال کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ جسم اور معدے سے حاصل کیے گئے نمونے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی لاہور بھجوا دیے گئے ہیں۔ فرانزک رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہی موت کی اصل وجہ اور واقعے کے تمام حقائق واضح ہو سکیں گے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور جلد مزید اہم معلومات عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں طالبہ کے جسم پر جنسی زیادتی یا جسمانی تشدد کے شواہد نہیں ملے۔حکام کے مطابق مزید تفصیلی تجزیے کے لیے ضروری نمونے فرانزک جانچ کی غرض سے لاہور کی لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ موت کی حتمی وجہ فرانزک رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہی سامنے آ سکے گی، جس سے واقعے کے تمام پہلوؤں کو واضح کرنے میں مدد ملے گی۔
پولیس تحقیقات
دوسری جانب پولیس کی جانب سے کیس کی تحقیقات مختلف پہلوؤں سے جاری ہیں۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) جھنگ ساجد حسین نے کہا ہے کہ معاملے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور فرانزک و پوسٹ مارٹم رپورٹس موصول ہونے کے بعد تحقیقات میرٹ اور مکمل شفافیت کے ساتھ مکمل کی جائیں گی۔


