بہاول نگر: ضلع پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ 12 سال سے ایک کمرے میں زنجیروں سے جکڑی Chained Woman ہوئی خاتون کو بازیاب کرا لیا گیا ہے، جبکہ اس کے والد اور ایک بھائی کو گرفتار کرکے خاندان کے مزید چھ افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق 32 سالہ حسنا بی بی، جو گاؤں پربھتی والا کی رہائشی ہیں، 12 سال قبل گھر سے فرار ہو گئی تھیں اور انہوں نے دوسری برادری کے ایک نوجوان سے عدالت میں شادی کر لی تھی۔
تاہم والدین کے دباؤ پر وہ شادی کے ایک ہفتے بعد گھر واپس آ گئیں، جہاں بااثر افراد اور برادری کے دباؤ کے تحت ان سے جبری طلاق کروا دی گئی۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے بعد حسنا بی بی کو گھر کے اندر ایک چھوٹے سے کمرے میں قید کر دیا گیا، جہاں نہ باتھ روم تھا اور نہ ہی بنیادی سہولیات موجود تھیں۔ خاتون کو لوہے کی زنجیروں سے باندھ کر رکھا گیا اور کمرے کا دروازہ باہر سے بند رہتا تھا۔
خاتون کی صحت
ذرائع کے مطابق حسنا بی بی کی صحت اس قدر خراب ہو گئی کہ وہ چلنے پھرنے کے قابل نہ رہیں، جس کے بعد اہل خانہ نے ان کی زنجیریں تو کھول دیں، لیکن انہیں کمرے سے باہر نکلنے، واش روم استعمال کرنے یا گھر کے دیگر افراد سے بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال مسلسل 12 برس تک جاری رہی۔ 4 جون کو ایک خفیہ اطلاع ملنے پر بہاول نگر کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) نے خواتین پولیس اہلکاروں پر مشتمل خصوصی ٹیم تشکیل دی۔
مذید خبریں
ایشال فاطمہ کیسے اغوا ہوئی ،جانئیے مکمل تفصیل – urdureport.com
کوئٹہ:خاتون ڈاکٹر پر تیزاب کیوں پھینکا وجہ سامنے آگئی – urdureport.com
خواتین اہلکاروں نے جھاڑو فروخت کرنے والی خواتین کا روپ دھار کر ابتدائی تحقیقات کیں اور خاتون کی قید کی تصدیق کے بعد مرد پولیس اہلکاروں کے ہمراہ گھر پر چھاپہ مار کر حسنا بی بی کو بحفاظت بازیاب کرا لیا۔
خاتون پر ظلم
پولیس ذرائع کے مطابق متاثرہ خاتون کو 12 سال تک نہ مناسب خوراک دی گئی، نہ نہانے کی اجازت تھی، نہ ہی بیت الخلا استعمال کرنے دی جاتی تھی اور نہ ہی کپڑے تبدیل کرنے کا موقع ملتا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ بازیابی کے وقت خاتون کی حالت انتہائی تشویشناک تھی اور وہ خود سے حرکت کرنے کے قابل بھی نہیں تھیں۔ انہیں فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق اس واقعے کا مقدمہ اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) اطہر محمود کی مدعیت میں تھانہ میکلوڈ گنج میں درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمے میں حسنا بی بی کے والد ریاض، والدہ خورشیداں بی بی اور بھائیوں طارق، ساجد، آصف اور طاہر کو نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس نے والد اور ایک بھائی کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔


