تھرپارکر: سندھ کے ضلع تھرپارکر میں ایک اونٹنی کو مبینہ طور پر کئی روز تک قید میں رکھ کر تشدد کا نشانہ بنانے اور اس کی دونوں آنکھیں پھوڑنے کے افسوسناک واقعے میں پولیس نے دو افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ دیگر نامزد ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
پولیس حکام کے مطابق واقعے کا مقدمہ متاثرہ جانور کے مالک کی درخواست پر درج کیا گیا، جس میں مجموعی طور پر چھ افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ ابتدائی کارروائی کے دوران دو ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ باقی ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
متاثرہ اونٹنی کے مالک کا الزام
متاثرہ اونٹنی کے مالک کا الزام ہے کہ چند افراد نے جانور کو پکڑ کر ایک باڑے میں بند کر دیا تھا جہاں اسے کئی دن تک بھوکا پیاسا رکھا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ تلاش کے بعد اونٹنی ایک نجی باڑے سے ملی جہاں اس کے پاؤں رسیوں سے بندھے ہوئے تھے اور وہ شدید زخمی حالت میں موجود تھی۔
پولیس کے مطابق واقعہ تحصیل ڈاہلی کی یونین کونسل چار نور کے ایک گاؤں میں پیش آیا۔ شکایت کنندہ کا مؤقف ہے کہ ملزمان نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اونٹنی ان کی زمین میں داخل ہو کر فصل اور چارہ نقصان پہنچاتی تھی، جس کے باعث اسے پکڑ کر باندھ دیا گیا۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق متاثرہ جانور 13 سالہ دودھ دینے والی دھاٹی نسل کی اونٹنی ہے جس کے ساتھ 4 ماہ کا بچہ بھی موجود ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ بااثر افراد نے اونٹنی کو پکڑ کر قید رکھا اور اسے شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔
واقعے کے بعد محکمہ لائیو اسٹاک نے فوری تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے ماہرین پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی، جس نے متاثرہ جانور کا طبی معائنہ اور شواہد اکٹھے کیے۔
ابتدائی رپورٹ
ابتدائی رپورٹ کے مطابق 13 سالہ دھاٹی نسل کی اونٹنی شدید جسمانی تشدد کا شکار ہوئی۔ ویٹرنری ماہرین نے بتایا کہ بار بار حملوں اور تشدد کے باعث اس کی ایک آنکھ مکمل طور پر ضائع ہو چکی ہے جبکہ دوسری آنکھ بھی متاثر ہوئی ہے، جس کے علاج اور مزید معائنے کا عمل جاری ہے۔
مذید خبریں
ایشال فاطمہ کیسے اغوا ہوئی ،جانئیے مکمل تفصیل – urdureport.com
کوئٹہ:خاتون ڈاکٹر پر تیزاب کیوں پھینکا وجہ سامنے آگئی – urdureport.com
طبی رپورٹ میں گردن، ٹانگوں اور گھٹنوں پر رسیوں کے گہرے نشانات بھی سامنے آئے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جانور کو طویل عرصے تک باندھ کر رکھا گیا۔ ماہرین کے مطابق بھوک، پیاس اور مسلسل تشدد نے اونٹنی کو انتہائی کمزور کر دیا ہے جس کے باعث اسے چلنے پھرنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
اونٹنی کا علاج
محکمہ لائیو اسٹاک نے اونٹنی کے علاج کے لیے خصوصی طبی ٹیم مقرر کر دی ہے جو روزانہ کی بنیاد پر اس کی صحت کا جائزہ لے رہی ہے۔ جانور کو ادویات، زخموں کے علاج اور خصوصی خوراک فراہم کی جا رہی ہے تاکہ اس کی صحت بحال کی جا سکے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر واقعے کی باضابطہ تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جانور پر ظلم میں ملوث تمام افراد کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور کسی کو رعایت نہیں دی جائے گی۔
لائیو اسٹاک حکام نے تحقیقات مکمل ہونے کے بعد تفصیلی رپورٹ اعلیٰ حکام کو ارسال کر دی ہے، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ باقی ملزمان کی گرفتاری کے بعد کیس میں مزید اہم پیش رفت متوقع ہے۔


