اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اقتصادی سروے 2025-26 پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اندرونی اور بیرونی چیلنجز کے باوجود پاکستان کی معیشت نے رواں مالی سال کے دوران بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور مجموعی شرح نمو 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
اسلام آباد میں اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ مالی سال کے آغاز میں ملک کو شدید مون سون بارشوں، عالمی تجارتی غیر یقینی صورتحال اور مختلف جغرافیائی و اقتصادی چیلنجز کا سامنا رہا، تاہم حکومتی اقدامات کے باعث معیشت کو استحکام کی راہ پر گامزن رکھنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی معیشت کا حجم بڑھ کر 452.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جبکہ فی کس سالانہ آمدن 1751 ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر ہوگئی۔ اسی طرح ملکی جی ڈی پی کی مالیت 126.9 کھرب روپے ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 11.3 فیصد زیادہ ہے۔
اقتصادی سروے کے مطابق زرعی شعبے کی شرح نمو 2.89 فیصد، صنعتی شعبے کی 3.51 فیصد اور خدمات کے شعبے کی 4.09 فیصد رہی۔ بڑے پیمانے کی صنعتوں (LSM) میں 6.11 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی، جبکہ پیٹرولیم سیکٹر میں 5 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
وزیر خزانہ کے مطابق جولائی تا مارچ کرنٹ اکاؤنٹ 72 ملین ڈالر سرپلس رہا جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر 8.2 فیصد اضافے کے ساتھ 30.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر بھی بڑھ کر 17.1 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے۔
زرعی شعبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ڈیری اور لائیو اسٹاک کا زرعی معیشت میں تقریباً 60 فیصد حصہ ہے جبکہ اس شعبے کی شرح نمو 3.75 فیصد رہی۔ گنے، گندم اور چاول کی پیداوار میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اقتصادی سروے میں مالیاتی نظم و ضبط میں بہتری کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا گیا کہ جولائی تا مارچ مالیاتی خسارہ کم ہو کر جی ڈی پی کے 0.7 فیصد تک آگیا جبکہ بنیادی سرپلس 3.2 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
شرح خواندگی میں اضافہ
سروے کے مطابق پاکستان میں 10 سال یا اس سے زائد عمر کی آبادی کی شرح خواندگی 61 فیصد سے بڑھ کر 63 فیصد ہوگئی۔ مردوں کی شرح خواندگی 73 فیصد جبکہ خواتین کی 54 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
صوبائی سطح پر پنجاب 68 فیصد شرح خواندگی کے ساتھ سرفہرست رہا، جبکہ سندھ اور خیبر پختونخوا میں یہ شرح 58 فیصد رہی۔ بلوچستان میں شرح خواندگی 49 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
صحت کے شعبے میں پیش رفت
اقتصادی سروے کے مطابق پیدائش کے وقت اوسط عمر 66.5 سال سے بڑھ کر 67.8 سال ہوگئی ہے۔ حفاظتی ٹیکوں کی کوریج 68 فیصد سے بڑھ کر 73 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ نوزائیدہ اور شیر خوار بچوں کی شرح اموات میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2025 تک ملک میں رجسٹرڈ ڈاکٹروں کی تعداد 3 لاکھ 36 ہزار 582، دندان سازوں کی تعداد 42 ہزار 118 اور نرسوں کی تعداد ایک لاکھ 38 ہزار 391 ہوگئی ہے۔
مالی سال 2024-25 کے دوران صحت کے شعبے پر سرکاری اخراجات بڑھ کر 942.2 ارب روپے تک پہنچ گئے۔ حکومت نے نیشنل ڈیجیٹل ہیلتھ ہب، ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے، ذیابیطس کی روک تھام اور نرسنگ اصلاحات سمیت متعدد نئے پروگرام بھی شروع کیے ہیں۔
غذائیت اور سماجی ترقی
اقتصادی سروے کے مطابق بینظیر نشوونما پروگرام کے تحت بچوں میں قد کی کمی اور کم وزن بچوں کی پیدائش کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے۔ فی کس یومیہ کیلوریز کی دستیابی 2550 تک پہنچ گئی جبکہ دودھ، گوشت، مچھلی، انڈوں اور دالوں کی دستیابی میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کی توجہ معاشی استحکام کو پائیدار ترقی، سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع میں تبدیل کرنے پر مرکوز ہے تاکہ معیشت کو مزید مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔


