• Home  
  • جنیوا مذاکرات میں کشیدگی، ایرانی وفد کا واک آؤٹ اور مشترکہ تصویر سے انکار
- ٹاپ سٹوری

جنیوا مذاکرات میں کشیدگی، ایرانی وفد کا واک آؤٹ اور مشترکہ تصویر سے انکار

ایران اور امریکہ کے درمیان جنیوا میں جاری مذاکرات کے دوران کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب ایرانی وفد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مذاکراتی مقام سے واک آؤٹ کر دیا۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایرانی مذاکراتی ٹیم نے واضح کیا ہے کہ اگر […]

ایران اور امریکہ کے درمیان جنیوا میں جاری مذاکرات کے دوران کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب ایرانی وفد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مذاکراتی مقام سے واک آؤٹ کر دیا۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایرانی مذاکراتی ٹیم نے واضح کیا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے صدور کے درمیان طے پانے والی ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ کے آرٹیکل 1 پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو دیگر تمام موضوعات پر جاری مذاکرات معطل کیے جا سکتے ہیں۔

تسنیم کے مطابق مذاکرات کے آغاز سے قبل ایرانی وفد نے امریکی وفد کے ساتھ مشترکہ تصویر بنوانے اور مصافحہ کرنے سے بھی انکار کر دیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اجلاس کے منتظمین نے دونوں وفود کی مشترکہ فوٹو سیشن کی منصوبہ بندی کی تھی، تاہم ایرانی نمائندوں نے اس انتظام پر اعتراض کرتے ہوئے شرکت سے معذرت کر لی۔

ذرائع کے مطابق ایرانی وفد کی عدم موجودگی کے باعث افتتاحی تصویری تقریب ایرانی نمائندوں کے بغیر منعقد ہوئی، جس کے بعد ایرانی وفد مذاکراتی مقام پر پہنچا۔ بعد ازاں امریکی وفد نے صحافیوں کو اجلاس کے مقام سے نکلنے کے لیے چند منٹ کا وقت دینے کی درخواست بھی کی۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کے معاملے پر سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے فوری طور پر نہ کھولا تو امریکہ اس اہم آبی گزرگاہ کا کنٹرول سنبھالنے پر غور کر سکتا ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایرانی حکام کو واضح پیغام دیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ ضرورت پڑنے پر وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں سے محصولات وصول کرنے کی پالیسی اختیار کر سکتا ہے۔

امریکی صدر نے ایران کے ساتھ حالیہ مفاہمتی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کے نفاذ کے لیے 60 روزہ مدت مقرر ہے، جس کے بعد امریکہ آئندہ اقدامات کا فیصلہ کرے گا۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے یورینیم افزودگی کے حق سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے، بصورت دیگر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

خطے کی مجموعی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی صدر نے لبنان اور حزب اللہ سے متعلق بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کی توجہ اس وقت بنیادی طور پر ایران کے معاملے پر مرکوز ہے، کیونکہ ان کے بقول ایران سے متعلق پیش رفت مشرقِ وسطیٰ کے دیگر معاملات پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!