اسلام آباد: ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان ایک روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ اعلیٰ پاکستانی قیادت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی تعاون کے مختلف شعبوں پر تبادلہ خیال کریں گے۔اسلام آباد میں سیکیورٹی کے سخت اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور ریڈ زون کو سیل کر دیا گیا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق صدر پزشکیان وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔ ان کے ہمراہ وزرا اور سینئر حکام پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی موجود ہوگا۔دورے کے دوران ایرانی صدر، صدر پاکستان سے ملاقات کریں گے جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ وفود کی سطح پر مذاکرات بھی ہوں گے۔
دونوں ممالک کے رہنما تجارت، توانائی، سرحدی انتظام، سکیورٹی، عوامی روابط اور علاقائی تعاون کے فروغ سے متعلق امور پر تفصیلی گفتگو کریں گے۔ایرانی صدر کی حیثیت سے ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا یہ پاکستان کا دوسرا سرکاری دورہ ہے، جسے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
حالیہ پیشرفت کا جائزہ
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں حالیہ "اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” کے تحت ہونے والی پیش رفت کا جائزہ بھی لیا جائے گا، جبکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر بھی غور کیا جائے گا۔یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مذاکرات میں مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔
ان مذاکرات میں پاکستان اور قطر نے سہولت کار کا کردار ادا کیا تھا۔وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات تعمیری ماحول میں ہوئے اور دونوں فریقوں نے آئندہ 60 روز کے اندر حتمی معاہدے کے لیے روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے۔
سفارتی ماہرین کے مطابق صدر پزشکیان کا دورہ نہ صرف پاکستان اور ایران کے تعلقات کو نئی جہت دے سکتا ہے بلکہ خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں اور امن کوششوں کو بھی تقویت فراہم کرے گا۔


