سرگودھا: سرگودھا میں آٹھ سالہ بچی منتہا زہرا کے مبینہ زیادتی اور قتل کے افسوسناک واقعے نے شہریوں کو غم و غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔ پولیس نے واقعے کے مرکزی ملزم سمیت پانچ افراد کو گرفتار کرنے کے بعد مزید تحقیقات کے لیے مقدمہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) کے حوالے کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق منتہا زہرا پیر کی صبح اپنے گھر سے قریبی جنرل اسٹور پر گھریلو سامان خریدنے کے لیے نکلی تھی، تاہم وہ واپس گھر نہ پہنچ سکی۔ اہل خانہ نے کچھ دیر انتظار کے بعد بچی کی تلاش شروع کی لیکن اس کا کوئی سراغ نہ ملا۔
ڈی پی او سرگودھا صہیب اشرف کے مطابق بچی کے والدین نے گمشدگی کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے علاقے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کی۔ فوٹیج کے جائزے سے معلوم ہوا کہ منتہا زہرا ایک قریبی دکان کے اندر داخل ہوئی تھی، لیکن اس کے بعد وہ عمارت سے باہر نکلتی دکھائی نہیں دی۔
پولیس نے فوری طور پر دکان اور اس سے ملحقہ عمارت کی تلاشی شروع کی۔ ابتدائی سرچ آپریشن کے دوران عمارت کی بالائی منزلوں پر خون کے نشانات ملے جس کے بعد تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق ایک منزل پر واش روم کے قریب خون کے دھبے، ایک چھری اور کچھ نقد رقم بھی ملی جس سے شبہات مزید گہرے ہو گئے۔
تحقیقات کے دوران پولیس عمارت کی چھت تک پہنچی جہاں ایک شیڈ کے پیچھے رکھے گئے سامان اور بوریوں کے درمیان سے بچی کی لاش برآمد ہوئی۔ واقعے کے بعد دکان میں کام کرنے والے ایک ملازم کو حراست میں لیا گیا، جس پر قتل اور مبینہ زیادتی کی کوشش کا الزام ہے۔
پولیس حکام کے مطابق ابتدائی تفتیش میں ملزم نے اعتراف کیا کہ اس نے بچی کو دکان سے اوپر بلایا تھا۔ تحقیقات کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر بچی کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی اور مزاحمت پر اسے تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں اس کی جان چلی گئی۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے ابتدائی نتائج میں جسمانی زیادتی کے شواہد سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ حتمی حقائق فرانزک اور ڈی این اے رپورٹس موصول ہونے کے بعد ہی واضح ہوں گے۔ تمام نمونے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کو بھجوا دیے گئے ہیں۔
دوسری جانب مقدمے میں درج ایف آئی آر میں بچی کے والد نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ دو روز قبل ان کی دکان کے مالک سے تلخ کلامی ہوئی تھی، جس کے بعد انہیں دھمکیاں دی گئی تھیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔
بچی کے والد کا کہنا ہے کہ وہ خود بھی اپنی بیٹی کی تلاش میں عمارت کی بالائی منزلوں تک گئے تھے، تاہم اس وقت انہیں کوئی سراغ نہیں ملا۔ ان کے مطابق بعد ازاں پولیس کی آمد اور سی سی ٹی وی فوٹیج کے جائزے کے بعد سرچ آپریشن مزید تیز کیا گیا جس کے نتیجے میں لاش برآمد ہوئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور تمام گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے۔ حکام کے مطابق واقعے کی مکمل حقیقت فرانزک شواہد، ڈی این اے رپورٹس اور مزید تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آئے گی۔
منتہا زہرا کے المناک قتل نے سرگودھا سمیت پورے ملک میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے جبکہ سوشل میڈیا پر بھی ملزمان کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔


