اسلام آباد: ایرانی صدر مسعود پزشکیان (Masoud Pezeshkian) نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کے آغاز سے لے کر ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت (MOU) تک ہر مرحلے پر پاکستان نے انتھک، مخلصانہ اور تعمیری کردار ادا کیا۔
اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف (Shehbaz Sharif) کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر نے پاکستان اور ایران کے تعلقات کو منفرد، قریبی اور برادرانہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان صرف ایران کا ہمسایہ ملک نہیں بلکہ ایک بھائی اور قابلِ اعتماد دوست ہے، جبکہ دونوں ممالک ’’یک جان دو قالب‘‘ ہیں اور مشترکہ مستقبل کے شراکت دار ہیں۔
پاکستانی کردار کو سراہا
مسعود پزشکیان نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط پاکستان کی سفارتی کوششوں کے باعث ممکن ہوئے اور وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر (Syed Asim Munir) نے ثالثی کے عمل میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے قطر، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کی قیادت کا بھی امن عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے اپنا ثالثی کردار جاری رکھنا چاہتا ہے۔ انہوں نے ایرانی قیادت کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے وقار کے ساتھ جنگ بندی اور امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت حاصل کی ہے۔
بیلسٹک میزائل پروگرام
وزیراعظم نے واضح کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں بیلسٹک میزائل پروگرام کا کوئی ذکر نہیں ہے اور نہ ہی یہ معاملہ مذاکراتی ایجنڈے کا حصہ ہے۔
مذید خبریں
ایران کو تیل فروخت کرنے کی مشروط اجازت ، کیا پاکستان کو سستا تیل مل سکے گا؟ – urdureport.com
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان امن عمل میں ایک مخلص اور دیانتدار ثالث کا کردار ادا کیا اور امید ہے کہ یہ معاہدہ پورے خطے میں امن، استحکام اور اقتصادی ترقی کے نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا۔
ایرانی صدر اپنا ایک روزہ سرکاری دورہ مکمل کرنے کے بعد اسلام آباد سے روانہ ہو گئے۔ دورے کے دوران انہوں نے صدر آصف علی زرداری (Asif Ali Zardari)، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقاتیں کیں، جن میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی سلامتی اور امن کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔


