امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کو خام تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کے لیے 60 روزہ عارضی لائسنس جاری کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری ہیں۔
کیا پاکستان ایران سے تیل خرید سکے گا؟
پاکستان اپنی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے زیادہ تر خام تیل سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک سے درآمد کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق پابندیوں میں نرمی کے بعد پاکستان کے لیے ایران سے تیل خریدنے کا راستہ کھل سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے حکومتی سطح پر فیصلے اور تجارتی معاہدے ضروری ہوں گے۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق پاکستان ایران کے ساتھ توانائی کے شعبے میں ممکنہ تعاون کا جائزہ لے گا اور ملکی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔
کیا ایرانی تیل سستا ملے گا ؟
توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران پر پابندیوں میں نرمی کا مطلب لازمی طور پر سستا تیل نہیں ہے۔ ان کے مطابق جب کسی ملک پر پابندیاں ہوتی ہیں تو وہ خریدار متوجہ کرنے کے لیے رعایتی نرخوں پر تیل فروخت کرتا ہے، لیکن پابندیاں کم ہونے کے بعد عموماً تیل بین الاقوامی مارکیٹ کی قیمتوں پر فروخت کیا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کو سب سے بڑا فائدہ نقل و حمل کے کم اخراجات کی صورت میں ہو سکتا ہے کیونکہ ایران ہمسایہ ملک ہے۔ اگر ایران سے درآمدات شروع ہوتی ہیں تو فریٹ لاگت نسبتاً کم رہ سکتی ہے، تاہم اس کا اثر ایندھن کی قیمتوں پر محدود ہوگا۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں ایرانی تیل کی اضافی سپلائی کے باعث خام تیل کی مجموعی قیمتوں میں کمی آتی ہے تو اس کا فائدہ پاکستان سمیت تمام درآمد کنندہ ممالک کو پہنچ سکتا ہے۔
کیا پاکستانی ریفائنریاں ایرانی خام تیل پراسس کر سکتی ہیں؟
توانائی شعبے کے ماہرین کے مطابق ایرانی خام تیل نسبتاً بھاری نوعیت کا ہے، جبکہ پاکستان کی بیشتر ریفائنریاں ہلکے خام تیل کی پروسیسنگ کے لیے موزوں ہیں۔
مذید خبریں
پاکستانی قوم سے تشکر ! ایرانی صدر آج پاکستان آئیں گے،ریڈ زون سیل – urdureport.com
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا – urdureport.com
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایرانی خام تیل سے زیادہ مقدار میں فرنس آئل پیدا ہوتا ہے، جس کی مقامی اور عالمی طلب نسبتاً کم ہے۔ اسی وجہ سے موجودہ حالات میں ایرانی خام تیل پاکستانی ریفائنریوں کے لیے معاشی طور پر زیادہ پُرکشش آپشن نہیں سمجھا جاتا۔
ماہرین کے مطابق ایران پر امریکی پابندیوں میں عارضی نرمی سے پاکستان کے لیے ایرانی تیل کی درآمد کے امکانات ضرور بڑھ سکتے ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل فوری طور پر سستا ہو جائے گا۔ قیمتوں کا انحصار عالمی منڈی، حکومتی پالیسیوں، درآمدی معاہدوں اور ریفائنریوں کی صلاحیت پر ہوگا۔


