تہران: ایران کی ایک فوجداری عدالت نے معروف گلوکارہ پرستو احمدی (Parastoo Ahmadi) اور ان کے ساتھ کام کرنے والے سات دیگر فنکاروں کو ایک آن لائن موسیقی پروگرام نشر کرنے کے مقدمے میں 74،74 کوڑوں کی سزا سناتے ہوئے دو سال کے لیے فنکارانہ سرگرمیوں اور بیرون ملک سفر پر پابندی عائد کر دی ہے۔
مقامی ذرائع ابلاغ اور فنکاروں سے وابستہ افراد کے مطابق یہ مقدمہ دسمبر 2024 میں یوٹیوب پر نشر ہونے والے ایک خصوصی میوزک پروگرام سے متعلق ہے، جس میں پرستو احمدی نے ایک خالی ہال میں متعدد گیت پیش کیے تھے۔ اس پرفارمنس میں ان کے ساتھ مختلف موسیقار بھی شریک تھے اور پروگرام کو لاکھوں افراد نے آن لائن دیکھا تھا۔
تمام موسیقار سیاہ لباس میں ملبوس تھے جبکہ پرستو نے لمبا بغیر آستینوں والا گاؤن پہن رکھا تھا اور گہری سرخ لپ سٹک لگائی ہوئی تھی،ننگے سر کنسرٹ میں شرکت کی۔ایران میں خواتین کو عوامی مقامات پر گانے کی اجازت نہیں
اطلاعات کے مطابق عدالت نے قرار دیا کہ پروگرام میں ملکی قوانین اور مذہبی ضوابط کی خلاف ورزی کی گئی۔ استغاثہ کی جانب سے فنکاروں پر انٹرنیٹ کے ذریعے ایسا مواد نشر کرنے کا الزام عائد کیا گیا جسے حکام نے عوامی اخلاقیات کے منافی قرار دیا۔
اس فیصلے کے بعد ویڈیوگرافر طاہرہ منزوی (Tahereh Monzavi) نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ تمام شریک فنکاروں کو دو سال کے لیے فنکارانہ سرگرمیوں سے روک دیا گیا ہے جبکہ اسی مدت کے دوران بیرون ملک سفر پر بھی پابندی عائد رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے تمام ملزمان کو 74 کوڑوں کی سزا بھی سنائی ہے۔
یاد رہے کہ مذکورہ میوزک پروگرام نشر ہونے کے چند روز بعد پرستو احمدی، ویڈیوگرافر اور دیگر فنکاروں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ بعد ازاں انہیں ضمانت پر رہائی مل گئی تھی، تاہم مقدمے کی کارروائی جاری رہی۔
ایران کے سخت ضابطے
ایران میں خواتین کے لیے عوامی سطح پر گلوکاری کے حوالے سے سخت ضابطے موجود ہیں اور کئی برسوں سے اس معاملے پر مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے۔ حالیہ عدالتی فیصلے نے ایک مرتبہ پھر ملک میں فنونِ لطیفہ، اظہارِ رائے اور ثقافتی سرگرمیوں سے متعلق قوانین کو توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق 2022 میں مہسا امینی (Mahsa Amini) کی دورانِ حراست ہلاکت کے بعد ایران میں سماجی اور ثقافتی آزادیوں سے متعلق مباحث میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی تناظر میں بعض فنکار اور سماجی کارکن حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے رہے ہیں۔
پرستو احمدی کی آن لائن پرفارمنس میں پیش کیے گئے بعض گیتوں میں نوجوانوں اور سماجی مسائل کا ذکر بھی شامل تھا، جس کے باعث یہ پروگرام سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا تھا۔
عدالتی فیصلے کے بعد انسانی حقوق کے کارکنوں اور فنونِ لطیفہ سے وابستہ حلقوں کی جانب سے مختلف ردِعمل سامنے آ رہے ہیں، جبکہ سرکاری حکام نے اس معاملے کو ملکی قوانین کے مطابق عدالتی کارروائی کا حصہ قرار دیا ہے۔


