سعودی عرب نے غیر ملکی شہریوں اور اداروں کے لیے جائیداد کی ملکیت کے نئے انتظامی ضوابط کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مخصوص علاقوں اور شرائط کے مطابق غیر سعودی افراد کو پراپرٹی خریدنے اور ملکیت رکھنے کی اجازت ہوگی۔
یہ فیصلہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں کیا گیا، جس میں ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو مزید متحرک کرنے اور بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔
نئے قانون کے مطابق غیر ملکیوں کو پورے ملک میں یکساں طور پر جائیداد خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی، بلکہ اس کے لیے مخصوص جغرافیائی حدود متعین کی جائیں گی جن کی تفصیلات سعودی جنرل ریئل اسٹیٹ اتھارٹی (REGA) جاری کرے گی۔
کن علاقوں میں جائیداد خریداری اجازت؟
ابتدائی معلومات کے مطابق ریاض اور جدہ جیسے بڑے شہروں میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مخصوص علاقوں میں جائیداد کی خریداری کی اجازت دی جائے گی، جبکہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے لیے خصوصی اور سخت شرائط نافذ ہوں گی۔
حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد سعودی عرب کے وژن 2030 کے تحت غیر ملکی سرمایہ کاری کو بڑھانا، ریئل اسٹیٹ مارکیٹ کو وسعت دینا اور عالمی سرمایہ کاروں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنا ہے، تاہم اس دوران مقامی شہریوں کے مفادات اور رہائشی ضروریات کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔
مذید خبریں
سرگودھا آٹھ سالہ بچی زیادتی و قتل ! اصل واقعہ کیسے ہوا – urdureport.com
ایرانی صدر کا دورہ پاکستان اورملاقاتیں ! کیا پیشرفت ہوئی – urdureport.com
نظام کے تحت قابلِ ملکیت جائیدادوں کی اقسام، ملکیت کی حد اور دیگر شرائط کا حتمی اعلان آئندہ سرکاری دستاویزات میں کیا جائے گا، جبکہ اس پالیسی پر عمل درآمد جنوری 2026 سے شروع ہوگا۔


